بھارتی ریاست پنجاب کے شہر امرتسر میں انسدادِ منشیات ایجنسی کی تحویل میں ہلاک ہونیوالے بارڈر سیکیورٹی فورس کے اہلکار کی پوسٹ مارٹم رپورٹ نے نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق متوفی کے جسم پر مجموعی طور پر 34 زخم پائے گئے، جس کے بعد واقعے نے مشکوک صورت اختیار کر لی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت خالصتان تحریک کے رہنما ہردیپ سنگھ نجار سے متعلق دستاویزی فلم سے خوفزدہ
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق 35 سالہ جسویندر سنگھ کی موت مارچ میں دورانِ تفتیش طبیعت بگڑنے کے بعد ہوئی تھی۔
تاہم اہلِ خانہ نے ابتدا ہی سے مؤقف اختیار کیا تھا کہ انہیں حراست کے دوران شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
🚨 The 16-page post-mortem report describes a systematic “third-degree” assault on Border Security Force (BSF) constable Jaswinder Singh, who died in the custody of the Narcotics Control Bureau (NCB) a month ago. **It documents 34 injuries on his body.**@kamalsinghbrar reports pic.twitter.com/QvQl3eAwWo
— ⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️Saka Nakodar:4Feb86 ਸਾਕਾ ਨਕੋਦਰ:੪ਫ਼ਰਵਰੀ੮੬ (@sakanakodar) April 24, 2026
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ 25 زخم موت سے 2 سے 4 دن قبل جبکہ مزید 9 زخم موت سے 18 سے 24 گھنٹے پہلے لگے تھے۔
اور یہ تمام مدت وہی ہے جب وہ متعلقہ ادارے کی تحویل میں تھے، اس انکشاف نے حراستی تشدد کے خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔
متوفی کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ ایک شخص کے جسم پر اتنی بڑی تعداد میں زخم معمول کی بات نہیں ہو سکتی۔
مزید پڑھیں: بھارتی ریاست منی پور میں ہندو اور عیسائی برادریوں میں مسلح تصادم، 3 افراد ہلاک
ان کے مطابق رپورٹ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ان کے شوہر کو تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق جسویندر سنگھ کا تعلق جموں سے تھا اور وہ چھٹی پر گھر آئے ہوئے تھے، جب انہیں منشیات کنٹرول ٹیم نے حراست میں لیا۔
بعد ازاں اہلِ خانہ کو اطلاع دی گئی کہ دورانِ تفتیش ان کی موت واقع ہو گئی۔













