امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق ویڈیوز واشنگٹن ڈی سی کی ایک عمارت پر پروجیکٹ کر دی گئیں۔
مناظر میں ایپسٹین سے منسلک تصاویر اور دستاویزات شامل تھیں، جبکہ پس منظر میں اس کی ای میلز کے اقتباسات پر مبنی آڈیو بھی سنائی گئی۔
سڑک کے دوسری جانب ایک ہجوم جمع ہو گیا جو عمارت کی بیرونی دیوار پر چلنے والی ان پروجیکشنز کو دیکھتا رہا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ ایپسٹین کی جنسی اسمگلنگ میں شریک تھے یا نہیں، کچا چٹھا کھلنے کو تیار
واشنگٹن میں ایک بڑی میڈیا تقریب سے ایک دن قبل ہونے والے اس غیر معمولی احتجاج نے شہر کی سیاسی فضا کو ایک اور طرح سے مہمیز دی ہے۔
مظاہرین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جیفری ایپسٹین کے درمیان روابط کی نشاندہی کرتی تصاویر اور دستاویزات واشنگٹن ہلٹن کی عمارت پر دکھائیں۔
یہ احتجاج 24 اپریل کو پروجیکٹ کیا گیا جو سالانہ وائٹ ہاؤس کاریسپونڈینٹس ڈنر سے عین پہلے کا وقت تھا۔
Trump-Epstein images projected on DC Hilton building ahead of White House correspondents’ gala https://t.co/CzwIA4RTJq
— Justice is Served (@pleasesaveour) April 25, 2026
یہ ایک اہم تقریب ہے جس میں صحافی، سیاسی رہنما اور وہ شخصیات شریک ہوتی ہیں جو امریکی صدارت کا احاطہ کرتی ہیں۔
اس سال کی تقریب اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ صدر ٹرمپ اس میں شرکت کرنے والے ہیں، جو بطور صدر ان کی پہلی حاضری ہوگی۔
میڈیا کے ساتھ ان کے کشیدہ تعلقات اور فیک نیوز کے خلاف ان کے بیانات کے باعث ان کی شرکت نے واشنگٹن میں حیرت اور دلچسپی پیدا کر دی ہے۔
مزید پڑھیں: ایپسٹین فائلز کی مزید کھیپ جاری: یہ کونسی معلومات ہیں، اہم شخصیات کے اوسان کیوں خطا ہیں؟
یہ تقریب وائٹ ہاؤس کاریسپونڈینٹس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقد ہوتی ہے، اور روایتاً اس میں موجودہ صدر کی شرکت کو آزادیٔ صحافت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
تاہم صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت کے دوران اس تقریب میں شرکت نہیں کی تھی اور 2025 میں بھی اسے نظر انداز کردیا تھا۔
اس سال انہیں مدعو کرنے کے فیصلے پر کئی نیوز رومز میں تنقید سامنے آئی ہے۔ سینکڑوں صحافیوں نے ایک کھلا خط بھی جاری کیا ہے۔
مزید پڑھیں: واشنگٹن میں ٹرمپ اور بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کا متنازع مجسمہ نصب
جس میں شرکا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ صدر سے میڈیا پر عائد پابندیوں کے حوالے سے براہِ راست سوال کریں۔
صدر ٹرمپ اور میڈیا کے تعلقات بدستور کشیدہ ہیں، وہ متعدد خبر رساں اداروں کے خلاف مقدمات دائر کر چکے ہیں، اور تنقیدی رپورٹنگ کو فیک نیوز قرار دیتے رہے ہیں۔
،صدرٹرمپ صحافیوں کو ذاتی طور پر نشانہ بھی بناتے رہے ہیں، ان کی انتظامیہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو وائٹ ہاؤس پریس پول سے خارج کرنے جیسے میڈیا کی رسائی محدود کرنے کے اقدامات بھی کیے۔













