سولر صارفین کے لیے فیس اور لائسنس شرط ختم کرنے کا معاملہ، نیپرا سے نظرثانی کی درخواست

اتوار 26 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن) نے سولر صارفین کے لیے فیس کے خاتمے اور 25 کلوواٹ تک کے نظاموں پر لائسنس کی شرط ختم کرنے کے معاملے پر قومی برقی توانائی ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے نظرثانی کی باضابطہ درخواست کر دی ہے۔

وزارتِ توانائی کے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر جاری بیان کے مطابق یہ اقدام وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کی ہدایت پر اٹھایا گیا۔ پاور ڈویژن نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ 25 کلوواٹ یا اس سے کم سولر صارفین پر فیس اور لائسنسنگ کی شرط نہ صرف غیر ضروری بوجھ ہے بلکہ قابلِ تجدید توانائی کے فروغ میں رکاوٹ بھی بن سکتی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ پاور ڈویژن پہلے بھی نیپرا کو اس فیصلے کے ممکنہ منفی اثرات سے آگاہ کر چکا ہے اور درخواست کی تھی کہ اس پالیسی کو سابقہ ضوابط کے مطابق ہم آہنگ کیا جائے تاکہ صارفین کو سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:بجلی کی پیداوار کیوں اور کیسے متاثر ہو رہی ہے؟ وزارت توانائی نے بتادیا

دستاویز کے مطابق پاور ڈویژن نے زور دیا ہے کہ چھوٹے سولر صارفین کے لیے درخواستوں کی منظوری کا اختیار دوبارہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو دیا جائے اور فیس کے خاتمے کو یقینی بنایا جائے، جیسا کہ پہلے کے قواعد میں موجود تھا۔

حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد گھریلو سطح پر شمسی توانائی کے فروغ کو تیز کرنا، صارفین کے لیے مالی بوجھ کم کرنا اور ملک میں قابلِ تجدید توانائی کے استعمال کو بڑھانا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حنا جاوید قتل کیس ہائی پروفائل قرار، خصوصی کمیٹی قائم

چین کی اہم دریا سے سمندر تک نہر کی تعمیر مکمل، ستمبر میں کھولنے کی تیاری

وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری

’آپ جیکولین سے حسد کرتی تھیں‘، سکیش چندر شیکھر کا نورا فتیحی کے نام خط وائرل

نیپال میں تباہی کا انتباہ 5 ماہ قبل کیا گیا، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں