وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور سمیت تمام بڑے شہروں میں لین اور لائن ڈسپلن یقینی بنانے کا ہدف مقرر کر دیا۔ لاہور کے بڑے شاہراہوں کو ٹریفک کے حوالے سے ماڈل بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کتاب شعور اور تہذیب کی بنیاد ہے، مریم نواز کا عالمی یومِ کتب پر پیغام
وزیراعلیٰ کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں ٹریفک نظام پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں ہدایت کی گئی کہ ٹریفک پولیس موبائل گاڑیوں پر نصب کیمروں کے ذریعے لین اور لائن کی پابندی کی نگرانی کرے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ زیگ زیگ ڈرائیونگ کرنے والے موٹرسائیکل سواروں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی اور موٹرسائیکل تین روز کے لیے تھانے میں بند رہے گی۔ لین، لائن ڈسپلن، روڈ سائیڈ پارکنگ اور ون وے کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ٹریفک پولیس نے گزشتہ 6 ماہ کے دوران 5 لاکھ سے زائد چالان کیے جبکہ ایک لاکھ سے زائد گاڑیاں تحویل میں لیں۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے لاہور میں غیر منظم ٹریفک رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اصلاحی اقدامات کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ قانون پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے چھوٹے بڑے روڈز پر کم عمر ڈرائیونگ کی روک تھام بھی ضروری ہے۔














