شام میں سابق صدر بشار الاسد کے دور کے ایک اہم سیکیورٹی عہدیدار کے خلاف پہلا عوامی مقدمہ شروع کر دیا گیا ہے، جسے ملک میں جاری عبوری انصاف کے عمل میں ایک بڑی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
دارالحکومت دمشق میں اتوار کے روز عاطف نجیب کے خلاف ٹرائل کی ابتدائی سماعت ہوئی۔ عاطف نجیب، جو صوبہ درعا میں سیاسی سیکیورٹی کے سربراہ رہ چکے ہیں، پر شامی عوام کے خلاف جرائم کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
#Syria holds first public trial of former regime officials
Read more: https://t.co/mmqDI9ty4M pic.twitter.com/0uqlYUF14E— SHAFAQ NEWS ENGLISH (@SHAFAQNEWSENG) April 26, 2026
استغاثہ کے مطابق عاطف نجیب نے 2011 کی عوامی بغاوت کے دوران مظاہرین کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کی نگرانی کی تھی۔ یہی واقعات بعد ازاں ملک گیر احتجاج اور پھر طویل خانہ جنگی کا سبب بنے۔
عدالت میں ہونے والی سماعت میں عاطف نجیب واحد ملزم کے طور پر پیش ہوئے، جبکہ بشار الاسد اور ان کے بھائی ماہر الاسد سمیت دیگر اعلیٰ عہدیداران پر عدم موجودگی میں فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔ ان پر قتل، تشدد، بھتہ خوری اور منشیات سے متعلق جرائم کے الزامات شامل ہیں۔

سماعت کے موقع پر عدالت کے باہر شہریوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی، جہاں متاثرہ خاندانوں نے اس کارروائی کو انصاف کی جانب اہم قدم قرار دیا۔ درعا سے تعلق رکھنے والے متاثرین بھی اس موقع پر موجود تھے۔
شام کی وزارتِ انصاف کے ترجمان کے مطابق مقدمے کو عوامی سطح پر چلانے کا مقصد شفافیت کو یقینی بنانا اور عدالتی نظام کی خودمختاری کو مضبوط کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا کا شام سے فوجی انخلا مکمل، اڈے دمشق کے حوالے
یاد رہے کہ 2011 میں درعا میں چند نوجوانوں کی جانب سے حکومت مخالف نعرے لکھنے کے بعد ان کی گرفتاری اور مبینہ تشدد نے ملک میں بڑے پیمانے پر احتجاج کو جنم دیا، جو بعد میں 14 سالہ خانہ جنگی میں تبدیل ہو گیا۔ یہ جنگ دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے پر اختتام پذیر ہوئی، جس کے بعد وہ روس فرار ہو گئے تھے۔













