صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے دورہ چین کے موقع پر چانگشا میں صوبہ حنان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی، جس میں صوبائی پارٹی سیکریٹری شین شیاومنگ اور گورنر ماو وے منگ شامل تھے۔
مزید پڑھیں: صدر زرداری کا چین میں بڑا اقدام: زرعی عمل کاری اور جدید صنعت میں پاک چین تعاون کو نئی سمت دینے کا فیصلہ
ملاقات کے دوران زراعت، صحت، تعلیم اور تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں جانب سے پاک چین تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔
President Zardari met Hunan Party Secretary Shen Xiaoming, explored cooperation in key areas, invited him to the 75th anniversary of 🇵🇰🇨🇳 diplomatic ties. He also attended a banquet hosted by Governor Mao Weiming in his honour. pic.twitter.com/RDI7ECUonK
— The President of Pakistan (@PresOfPakistan) April 26, 2026
صدر مملکت آصف زرداری نے اس موقع پر شین شیاومنگ کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی اور کہاکہ پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر یہ دورہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاک چین تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہیں۔ انہوں نے چین کے ساتھ اپنے ذاتی اور خاندانی تعلقات کا بھی ذکر کیا۔
صدر مملکت نے حنان کی زرعی ٹیکنالوجی سے استفادے میں پاکستان کی دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے زرعی تحقیق، بیج ٹیکنالوجی اور جدید کاشتکاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔
ان کے مطابق دوطرفہ تجارت میں زرعی مشینری، معدنیات اور آئی ٹی کے شعبے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔
ملاقات میں بتایا گیا کہ حنان کی جامعات اور پاکستانی تعلیمی اداروں کے درمیان 12 معاہدے طے پا چکے ہیں جبکہ اس وقت 959 پاکستانی طلبہ صوبے میں زیر تعلیم ہیں۔
گورنر ماو وے منگ نے کہاکہ پاکستان اور چین قریبی دوست، ہمسایہ اور شراکت دار ہیں، اور حنان سی پیک 2.0 کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھے گا۔
صدر مملکت آصف زرداری نے کہاکہ حنان کو چیئرمین ماؤ زے تنگ کی جائے پیدائش ہونے کی وجہ سے خاص تاریخی اہمیت حاصل ہے اور پاکستانی عوام ان کے نظریات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں: صدر آصف علی زرداری کا دورہ چین، اعلیٰ سطح ملاقاتیں شیڈول
انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان اور چین کے عوام کے دل ہمیشہ ایک ساتھ دھڑکتے رہیں گے۔
چینی سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے اس موقع پر کہاکہ صدر زرداری کا دورہ حنان دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو مزید فروغ دے گا۔














