صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے چین کے صوبہ ہنان کے دارالحکومت چانگشا میں اہم زرعی و صنعتی اداروں کے دورے کرتے ہوئے پاکستان اور چین کے درمیان زرعی عمل کاری، قدر میں اضافہ، جدید صنعت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں تعاون کو وسعت دینے پر زور دیا ہے۔
President Zardari visited Hunan Tea Group in Changsha, Hunan province to explore 🇵🇰🇨🇳 cooperation in agro-processing & value addition. The President was briefed on the supply chain mechanism & invited the Group to bring their expertise in tea cultivation & exports to Pakistan. pic.twitter.com/yKv71RMgVk
— The President of Pakistan (@PresOfPakistan) April 26, 2026
دورے کے دوران صدر نے ’ہنان ٹی گروپ‘ کا معائنہ کیا، جہاں انہیں چائے کی پیداوار، سپلائی چین (ترسیلی نظام) اور قدر میں اضافہ کے جدید طریقہ کار پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ صدر زرداری نے اس موقع پر گروپ کو پاکستان میں چائے کی کاشت، عمل کاری اور برآمدات کے شعبے میں اپنی مہارت منتقل کرنے کی دعوت دی، تاکہ مقامی سطح پر زرعی پیداوار میں اضافہ اور قدر میں اضافہ کے ذریعے برآمدات کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا خواہاں ہے اور چین کے تجربات سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔
President Zardari visited SANY Heavy Industry in Changsha, Hunan province to boost Pakistan-China industrial cooperation. From smart manufacturing to tech transfers in construction & clean energy, the focus is on modernising Pakistan’s infrastructure through global partnerships. pic.twitter.com/M6jR9MBeJC
— The President of Pakistan (@PresOfPakistan) April 26, 2026
بعد ازاں صدر مملکت نے’سینی ہیوی انڈسٹری‘ کا دورہ کیا، جو جدید پیداوار، تعمیرات اور صاف توانائی کے میدان میں عالمی شہرت رکھتی ہے۔ اس موقع پر صنعتی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور پاکستان کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔
صدر زرداری نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی شراکت داری کے ذریعے پاکستان کے بنیادی ڈھانچے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے، جس سے معاشی ترقی اور صنعتی استحکام کو تقویت ملے گی۔
فریقین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاک چین تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، خصوصاً زرعی پیداوار، صنعتی ترقی، توانائی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کو فروغ دے کر خطے میں اقتصادی ترقی کے نئے دروازے کھولے جائیں گے۔














