افغان پلیٹ فارم ’المِرصاد‘ طالبان کا پاکستان مخالف پروپیگنڈا پلیٹ فارم قرار

پیر 27 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یونیورسٹی آف لاہور کے سینٹر فار سیکیورٹی، اسٹریٹیجی اینڈ پالیسی ریسرچ (سی ایس ایس پی آر) کی جانب سے کی گئی ایک جامع تحقیق میں افغان میڈیا آؤٹ لیٹ المِرصاد کو افغان طالبان کے انٹیلیجنس نظام کا ایک منظم پروپیگنڈا پلیٹ فارم قرار دیا گیا ہے۔

تحقیق کے مطابق یہ پلیٹ فارم پاکستان کے خلاف منظم اور جدید نوعیت کے بیانیے تیار کرتا ہے، جن کا مقصد ملک کو عدم استحکام کا شکار بنانا اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کو کمزور کرنا ہے۔

مزید پڑھیں: ملا معتصم کی گرفتاری اور رہائی، افغان طالبان کی صفوں میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2023 میں قائم ہونے والا المِرصاد کوئی آزاد میڈیا ادارہ نہیں بلکہ ایک پیشہ ور اور مربوط انفارمیشن وارفیئر ٹول ہے، جو طالبان قیادت سے منسلک مرکزی کنٹرول کے تحت کام کرتا ہے۔ اس کا مقصد نظریاتی جنگ کے ذریعے ایسے بیانیے تشکیل دینا ہے جو طالبان حکومت کی حمایت کریں اور پاکستان کو غیر معتبر ثابت کریں۔

سی ایس ایس پی آر کی تحقیق کے مطابق اس پلیٹ فارم کی ڈیجیٹل حکمتِ عملی کئی پرتوں پر مشتمل ہے، جس میں انگریزی، اردو، پشتو، عربی، دری اور ہندی سمیت متعدد زبانوں میں مواد تیار کیا جاتا ہے۔

المِرصاد ٹیلیگرام، ایکس، واٹس ایپ اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز پر جدید ترسیلی طریقے استعمال کرتا ہے جبکہ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے زیادہ موثر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت سے چلنے والی تکنیکس بھی استعمال کی جا رہی ہیں۔

تحقیق کی ایک اہم دریافت یہ ہے کہ پلیٹ فارم مذہب کو بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے۔ المِرصاد مبینہ طور پر اسلامی تصورات کو مسخ کرکے عسکریت پسند تشدد کو مذہبی فریضہ ظاہر کرتا ہے جبکہ پاکستان کی انسدادِ دہشتگردی کارروائیوں کو غیر قانونی قرار دیتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ پلیٹ فارم شدت پسند گروہوں کے لیے قوتِ محرکہ کا کردار ادا کرتا ہے، خاص طور پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو جائز قرار دینے اور طالبان و ٹی ٹی پی کے درمیان تعلقات کو چھپانے میں۔

مزید برآں تحقیق کے مطابق المِرصاد نفسیاتی اور جذباتی داؤ پیج کے ذریعے پاکستان خصوصاً پشتون اور بلوچ علاقوں میں نسلی اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ پلیٹ فارم عالمی سطح پر مسلم مسائل جیسے غزہ کی صورتحال کو بھی استعمال کرتا ہے تاکہ نوجوانوں کو متحرک کیا جا سکے اور وسیع تر اسلامی بیانیے میں پاکستان مخالف جذبات شامل کیے جا سکیں۔

سی ایس ایس پی آر کی رپورٹ اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ پلیٹ فارم طالبان کی اپنی اندرونی پالیسیوں، جیسے شہری آزادیوں پر پابندیوں پرخاموشی اختیار کئے ہوئے ہے جبکہ من گھڑت کہانیوں، سازشی نظریات اور اشتعال انگیز دعوئوں کے ذریعے پاکستان کو غیر اخلاقی اور غیر اسلامی ریاست کے طور پر پیش کرتا ہے۔

داخلی عدم استحکام سے بڑھ کر یہ رپورٹ خبردار کرتی ہے کہ المِرصاد بیرونی سطح پر بھی ایسے پیغامات پھیلاتا ہے جن کا مقصد پاکستان کے علاقائی شراکت داروں خصوصا چین کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچانا ہے۔

مزید پڑھیں: دہشتگردی ختم کرنے کا دباؤ: افغان طالبان ٹی ٹی پی حمایت پر تقسیم؟

سی ایس ایس پی آر کی تحقیق المِرصاد کو صحافت یا تجزیہ نہیں بلکہ ایک منظم پروپیگنڈا ہتھیار قرار دیتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ پلیٹ فارم دہشتگردی اور انفارمیشن وارفیئر کے امتزاج کی نمائندگی کرتا ہے، جسے حقیقت کو مسخ کرنے، تشدد کو جائز قرار دینے اور پاکستان کو علاقائی و عالمی سطح پر تنہا کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

سی ایس ایس پی آر کے نتائج اس اہم حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ المِرصاد نہ صحافت ہے اور نہ تجزیہ بلکہ ایک منظم پروپیگنڈا مشین ہے، جس کا مقصد حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا، عوامی رائے کو متاثر کرنا، لوگوں کو شدت پسندی کی طرف مائل کرنا اور طالبان کے ناپاک عزائم کو آگے بڑھانا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp