اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (سیپری) کی جانب سے جاری تازہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں فوجی اخراجات 2025 میں بڑھ کر 2887 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔
اس طرح 2024 کے مقابلے میں 2025 میں حقیقی معنوں میں فوجی اخراجات 2.9 فیصد زیادہ رہے، یہ مسلسل 11واں سال ہے جب عالمی دفاعی اخراجات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق امریکا، چین اور روس بدستور دنیا کے سب سے بڑے فوجی خرچ کرنے والے ممالک رہے، جنہوں نے مجموعی طور پر 1480 ارب ڈالر خرچ کیے، جو عالمی اخراجات کا 51 فیصد بنتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عسکری، سیاسی طاقت کی دوڑ، چین اور امریکا میں سے کون آگے؟
تاہم 2025 میں امریکا کے فوجی اخراجات میں 7.5 فیصد کمی ہوئی اور یہ 954 ارب ڈالر رہے، جس کی بڑی وجہ یوکرین کے لیے نئی فوجی امداد کی منظوری نہ ہونا تھی۔
دوسری جانب یورپ میں دفاعی اخراجات میں نمایاں 14 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جس کی بڑی وجہ یوکرین جنگ اور نیٹو ممالک کی جانب سے دفاعی صلاحیتوں میں تیزی سے اضافہ ہے۔
روس کے اخراجات 190 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ یوکرین نے 20 فیصد اضافے کے ساتھ 84.1 ارب ڈالر خرچ کیے، جو اس کی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 40 فیصد بنتا ہے۔
Global military spending rose again in 2025 as states responded to another year of wars, uncertainty and geopolitical upheaval with large-scale armament drives.
Read more ➡️ https://t.co/v3R3B7b1MV#SIPRI #MilitaryExpenditure #MilitarySpending #Peace #GDAMS2026 pic.twitter.com/XlxdFFyC6Q— SIPRI (@SIPRIorg) April 27, 2026
ایشیا اور اوشیانا میں بھی دفاعی اخراجات 8.1 فیصد بڑھ کر 681 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جو 2009 کے بعد سب سے زیادہ اضافہ ہے۔
چین نے 336 ارب ڈالر خرچ کیے، جبکہ جاپان اور تائیوان نے بھی اپنے دفاعی بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا۔
مشرق وسطیٰ میں مجموعی اخراجات تقریباً مستحکم رہے اور 218 ارب ڈالر تک پہنچے، اسرائیل کے اخراجات میں معمولی کمی دیکھی گئی، جبکہ ترکیہ کے دفاعی بجٹ میں اضافہ ہوا۔
مزید پڑھیں: امریکا کی دفاعی ترجیحات میں تبدیلی، یورپی اتحادیوں کو فوجی معاونت محدود کرنے کا اعلان
ایران کے اخراجات مسلسل دوسرے سال کم ہوئے، جس کی وجہ بلند مہنگائی اور معاشی دباؤ بتایا گیا ہے۔
سیپری کے ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں جنگوں، عدم استحکام اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث ممالک بڑے پیمانے پر اسلحہ سازی کی جانب بڑھ رہے ہیں اور یہ رجحان 2026 اور اس کے بعد بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔














