وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج اپنی قومی سلامتی کی ٹیم کے ساتھ ملاقات میں ایران کی نئی تجاویز پر غور کررہے ہیں۔
پریس بریفنگ کے دوران ترجمان نے بتایا کہ ایران کی جانب سے بھیجی گئی نئی تجویز میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی پیشکش بھی شامل ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کا علاقائی امن کے لیے فعال سفارتکاری جاری رکھنے کا اعلان
انہوں نے کہاکہ صدر ٹرمپ کی جانب سے بیان کی گئی ریڈ لائنز واضح ہیں، اور امریکا کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جس کے تحت ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت ملے۔
ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہاکہ پریس ڈنر کے دوران صدر ٹرمپ کو قتل کرنے کی تیسری بڑی کوشش کی گئی، تاہم امریکی صدر سمجھتے ہیں کہ تقریب کے موقع پر سیکیورٹی مؤثر تھی۔
انہوں نے کہاکہ اب صدر ٹرمپ کی حفاظت کو مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
قبل ازیں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران سے جاری کشیدگی اور ممکنہ مذاکرات پر بات کرتے ہوئے کہاکہ ان کے خیال میں ایرانی مذاکرات کار امریکا کے ساتھ معاہدے میں سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں اور موجودہ بحران سے نکلنا چاہتے ہیں۔
فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اگرچہ مذاکراتی سطح پر پیش رفت کی خواہش موجود ہے، تاہم ایران کی اعلیٰ قیادت داخلی کمزوریوں اور اختلافات کا شکار ہے، جو کسی بھی ممکنہ ڈیل کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔
ان کے مطابق ایرانی قیادت مزید وقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ ملک کو بدستور معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی تاحال برقرار ہے، تاہم صدر ٹرمپ نے پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی میں توسیع ہے، جس پر تاحال عملدرآمد ہورہا ہے۔
مزید پڑھیں: ایرانی مذاکرات کار معاہدے کے لیے سنجیدہ، ڈیل نہ ہوئی تو آئندہ فیصلہ صدر ٹرمپ کریں گے، مارکو روبیو
پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کررہا ہے، جس کا عالمی سطح پر بھی اعتراف کیا جارہا ہے۔














