پاک فوج نے خیبر پختونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان میں شہری علاقوں پر بلا اشتعال فائرنگ اور دراندازی کی کوشش کے بعد جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان کی متعدد چوکیاں تباہ کر دی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آپریشن غضب للحق: مسلح افواج کی کارروائیوں میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کو بھاری نقصان، 684 دہشتگرد ہلاک
پی ٹی وی کے مطابق واقعہ جنوبی وزیرستان کے علاقے زلول خیل، انگور اڈہ میں پیش آیا جہاں مبینہ طور پر افغان طالبان اور دہشتگردوں نے دراندازی کی ناکام کوشش کے بعد پاکستانی علاقوں پر فائرنگ کی۔
کالعدم فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) نے افغان سرزمین سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کی تاہم پاکستانی فورسز نے فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔
دراندازی ناکام، شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ناکامی کے بعد مبینہ افغان طالبان عناصر نے شکست کے بعد مایوسی میں شہری علاقوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 3 پاکستانی شہری، جن میں 2 خواتین بھی شامل ہیں، زخمی ہو گئیں۔
مزید پڑھیے: اقوام متحدہ کا پاک فوج کی فتنہ الخوارج اور طالبان رجیم کے خلاف کارروائیوں میں عارضی وقفے کا خیرمقدم
زخمیوں کو فوری طور پر وانا کے ضلعی ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔
پاک فوج کا مؤثر جوابی آپریشن
پاک فوج نے سرحد پار اشتعال انگیزی کے جواب میں بھرپور اور مؤثر کارروائی کی جس کے دوران فائرنگ میں ملوث افغان طالبان کی متعدد پوسٹیں اور مورچے تباہ کر دیے گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے میں استعمال ہونے والی فائرنگ پوزیشنز کو مکمل طور پر غیر مؤثر بنا دیا گیا جس سے مزید کشیدگی کو روکا گیا۔
مقامی ردعمل اور حکومتی مؤقف
مقامی آبادی نے شہری علاقوں پر فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا جبکہ علاقے کے لوگوں نے پاک فوج کی بروقت کارروائی کو سراہا۔
مزید پڑھیں: پاک فوج کی قندھار میں کارروائی، افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے ٹھکانے، ہتھیار ذخیرہ کرنے کی سرنگ تباہ
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی فوجی کارروائی کو سراہتے ہوئے دراندازی کی کوشش ناکام بنانے پر افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا۔
انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ بروقت کارروائی سے دہشتگردوں کے مذموم عزائم ناکام بنا دیے گئے۔
سiکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ انسداد دہشتگردی کارروائیوں کے تسلسل میں پیش آیا جن کے باعث دہشتگرد گروہوں پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی اسی نوعیت کے واقعات دیر، باجوڑ، اورکزئی، طورخم اور شمالی وزیرستان میں رپورٹ ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: آپریشن غضب للحق: کرم سیکٹر میں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے خلاف پاک فوج کی موثر کارروائیاں
حکام کے مطابق پاکستان اپنی سرحدوں کے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گا۔














