امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث خلیجی ممالک میں کام کرنے والے لاکھوں بھارتی شہری غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو گئے ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں افراد روزگار چھوڑ کر یا حالات کے دباؤ کے تحت بھارت واپس لوٹ رہے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تقریباً 10 لاکھ بھارتی شہری خلیجی ممالک سے واپس آ چکے ہیں، جس سے بھارتی معیشت کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
رپورٹس کے مطابق خلیجی خطے میں فضائی حدود کی بندش، سمندری تجارت میں تعطل، سیاحت کے شعبے میں کمی اور تعمیراتی منصوبوں کی سست روی نے بھارتی تارکین وطن کی ملازمتوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ’ہاں، بھارتی معیشت مردہ ہے‘، راہول گاندھی نے امریکی صدر ٹرمپ کے بیان کی حمایت کردی
بھارتی وزارت خارجہ کے اعداد و شمار کے مطابق فروری کے اختتام سے اپریل کے وسط تک تقریباً 9 لاکھ 84 ہزار بھارتی شہری وطن واپس لوٹے، جن میں مزدور، طلبہ اور کم آمدنی والے افراد شامل ہیں۔
جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے کی ایک رپورٹ میں دبئی میں مقیم بھارتی شہری میرا کورین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایران جنگ کے بعد ہوٹل بکنگ میں نمایاں کمی کے باعث انہیں ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔ ان کے مطابق دبئی جیسے شہر سیاحت، تجارت اور غیر ملکی کارکنوں کی سرگرمیوں پر مکمل انحصار کرتے ہیں، اور جب آمدورفت رک جاتی ہے تو ریٹیل، لاجسٹکس اور دیگر شعبے بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 90 لاکھ بھارتی شہری خلیجی ممالک میں مختلف شعبوں جن میں تعمیرات، مہمان نوازی، لاجسٹکس، ریٹیل اور خدمات شامل ہیں، میں کام کرتے ہیں اور ہر سال اربوں ڈالر زرِ مبادلہ بھارت بھیجتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ کشیدگی طویل عرصے تک جاری رہی تو بھارت میں کھپت، ہاؤسنگ، گھریلو قرضوں اور روزگار پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے مشرق وسطیٰ تنازعہ: بھارت میں ڈھائی ملین افراد کے خط غربت سے نیچے جانے کا خدشہ ہے، اقوام متحدہ
عمان میں بھارت کے سابق سفیر انیل وادھوا نے خبردار کیا ہے کہ طویل جنگ خلیجی معیشتوں پر دباؤ میں اضافہ کرے گی، جس کے نتیجے میں بھارتی تارکین وطن کی بڑے پیمانے پر واپسی کا خدشہ ہے۔
اسی طرح نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک فنانس اینڈ پالیسی سے وابستہ ماہر معاشیات لیکھا چکرابورتی نے خبردار کیا ہے کہ یہ بحران بھارت میں ’لیبر شاک‘ پیدا کر سکتا ہے، جس سے قرضوں میں اضافہ، جزوی بے روزگاری اور ریاستی مالیات پر دباؤ بڑھے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران جنگ نے نہ صرف خلیجی خطے کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ بھارتی معیشت کے لیے بھی ایک نئے بحران کی بنیاد رکھ دی ہے، جس کے اثرات آنے والے مہینوں میں مزید واضح ہو سکتے ہیں۔













