گزشتہ روز امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی معیشت کو مردہ قرار دیتے ہوئے اس پر 25 فیصد ٹیرف کے ساتھ ساتھ روس کے ساتھ تعلقات پر جرمانہ بھی عائد کردیا۔ اس پوری صورتحال پر ایک طرف بھارتی تجزیہ کاروں نے سخت مایوسی کا اظہار کیا تو دوسری طرف اپوزیشن رہنماؤں نے اِسے حکومت کی ناکام خارجہ اور معاشی پالیسی سے تعبیر کیا اور اِس معاملے کو پارلیمنٹ میں اُٹھانے کا عندیہ بھی دیا۔
اس پوری صورتحال پر بھارتی میڈیا نے جب اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی سے رائے جاننا چاہی تو انہوں نے توقف کیے بغیر ڈونلڈ ٹرمپ کی رائے کو ٹھیک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے سچ کہا ہے، بھارتی معیشت مردہ ہے اور اگر یہ بات کسی کو نہیں معلوم تو وہ ملک کے وزیراعظم اور وزیر خزانہ ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت پر مسلسل دباؤ کیوں بڑھا رہے ہیں؟
راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ انہیں خوشی ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایک حقیقت کو بیان کیا ہے۔ راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نریندر مودی صرف صنعتکار گوتم اڈانی کے مفادات کے لیے کام کرتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم مودی صرف ایک شخص کے لیے کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج بھارت کے سامنے اصل مسئلہ یہ ہے کہ حکومت نے ہماری معیشت، دفاع اور خارجہ پالیسی کو تباہ کر دیا ہے۔ یہ حکومت ملک کو تباہی کی طرف لے جارہی ہے۔
#WATCH | Delhi: On the US President Trump's dead economy remark, Lok Sabha LoP and Congress MP Rahul Gandhi says, "Yes, he is right, Everybody knows this except the Prime Minsiter and the Finance Minsiter. Everybody knows that the Indian economy is a dead economy. I am glad that… pic.twitter.com/n7UWXrgggW
— ANI (@ANI) July 31, 2025
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متعدد دعوؤں پر حکومت کی خاموشی پر بھی سخت سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ ٹرمپ نے تقریباً 30 سے 32 بار دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے جنگ بندی کروائی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت کے 5 لڑاکا طیارے گرائے گئے۔ اب ٹرمپ کہتے ہیں کہ وہ 25 فیصد ٹیرف بھی عائد کریں گے، مگر سوال یہ ہے کہ وزیراعظم مودی اس پر جواب کیوں نہیں دے پا رہے؟ اصل وجہ کیا ہے؟ کن کے ہاتھ میں اختیار ہے؟
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر کا کہنا تھا کہ بھارت ہمارا دوست ہے لیکن ہم نے برسوں میں ان سے بہت کم تجارت کی ہے کیونکہ اُن کے ٹیرف دنیا میں سب سے زیادہ ہیں اور اُن کی غیر مالیاتی تجارتی رکاوٹیں بھی انتہائی سخت اور ناقابل قبول ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے ہمیشہ روس سے بڑی مقدار میں فوجی ساز و سامان خریدا ہے اور چین کے ساتھ مل کر وہ روس سے توانائی کا سب سے بڑا خریدار بھی ہے، ایسے وقت میں جب دنیا چاہتی ہے کہ روس یوکرین میں قتل و غارت بند کرے، یہ تمام چیزیں اچھی نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: یورپی یونین 30 فیصد امریکی ٹیرف سے بچ گیا، امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے
واضح رہے کہ اس سے قبل آج ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو خبردار کیا تھا کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے زیر التوا تجارتی معاہدہ طے نہ پایا تو بھارتی درآمدات پر 25 فیصد تک ٹیرف عائد کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل اب تک ڈونلڈ ٹرمپ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کرانے کے لیے اپنے ثالثی کردار کا 29 بار ذکر کرچکے ہیں اور ہر بار جب وہ ذکر کرتے ہیں تو بھارت کے اندر نریندر مودی کی حکومت پر اپوزیشن کی جانب سے تنقید بڑھ جاتی ہے جس کی وجہ سے حکمران جماعت کو ہر بار ہزیمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔














