پنجاب کی سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سیاحت کے حوالے سے خودکفیل ہونے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
ان کے مطابق پنجاب میں سیاحت اور ورثے کی بحالی پر 28 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں جبکہ ایکو ٹورزم اور وائلڈ لائف ٹورزم کے فروغ پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، مجموعی طور پر 78 ارب روپے کے وسائل خرچ کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: نواز شریف اور مریم نواز کی زیر صدارت مری میں اجلاس، اسکائی گلاس برج سمیت سیاحتی منصوبوں کی منظوری
انہوں نے کہا کہ ‘میگنیفیسنٹ پنجاب’ ایپ میں پورے صوبے کے سیاحتی مقامات کے بارے میں جامع معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب سیاحت صرف ایک سافٹ سیکٹر نہیں رہی بلکہ آنے والے چند سالوں میں ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرے گی۔
مریم اورنگزیب کے مطابق سیاحتی مقامات کو پہلی مرتبہ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کے وژن کے تحت ‘میگنیفیسنٹ پنجاب’ منصوبے کے ذریعے بحال کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 8 ماہ کے دوران لاہور سیاحتی سرگرمیوں کے حوالے سے خطے میں نمایاں مرکز بن کر ابھرا ہے۔
انہوں نے اپنی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بہت جلد مزید سیاحتی مقامات کو عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔ ان کے مطابق طلبہ چھانگہ مانگہ سمیت مختلف جنگلات اور تفریحی مقامات کا دورہ کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش اور پاکستان کا ہوا بازی اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کا عزم
انہوں نے بتایا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ہوٹلنگ اور ٹورازم سیکٹر میں بھی سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں۔ پہلی مرتبہ پنجاب ٹورزم اتھارٹی کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ یہ تمام اقدامات وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کے وژن کا حصہ ہیں جس کا مقصد پنجاب میں سیاحت کو عالمی معیار کے مطابق فروغ دینا ہے۔











