موسم بہار اور گرمیوں میں جب پھول کھلتے ہیں اور فضا میں پولن بڑھ جاتا ہے تو پاکستان سمیت دنیا بھر میں لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد الرجک رائنائٹس کا شکار ہو جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: درختوں سے پولن الرجی اسلام آباد کے شہریوں کو کیسے متاثر کررہی ہے؟
اس کیفیت کو جب موسمی طور پر دیکھا جائے تو اسے عام طور پر ہی فیور کہا جاتا ہے۔ اس میں ناک بہنا، چھینکیں آنا، آنکھوں میں خارش اور گلا خراب ہونا جیسی علامات شامل ہوتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق موسمی تبدیلیاں اور ماحولیاتی آلودگی اس مسئلے کو مزید بڑھا رہی ہیں۔
ناک کے اسپرے کو ترجیح دیں
ماہرین کے مطابق گولیوں کے مقابلے میں ناک کے اسپرے زیادہ مؤثر ہوتے ہیں خاص طور پر کورٹیکوسٹیرائڈ اسپرے یا ایسے اسپرے جو اینٹی ہسٹامین اور کورٹیکوسٹیرائڈ دونوں پر مشتمل ہوں۔
یہ براہِ راست ناک کے متاثرہ حصے پر اثر کرتے ہیں اور علامات کو بہتر طریقے سے کنٹرول کرتے ہیں۔
کس قسم کے اسپرے کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہیے؟
ایسے اسپرے جن میں آکسی میٹازولین یا فینی لیفرین شامل ہو زیادہ استعمال کرنے سے ناک میں مزید بندش پیدا کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھیے: اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی، پولن الرجی سے نجات یا نیا ماحولیاتی بحران؟
ماہرین کے مطابق انہیں مسلسل چند دن سے زیادہ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
جدید اینٹی ہسٹامین ادویات استعمال کریں
اگر گولی لینی ہو تو دوسری نسل کی ادویات جیسے سیٹیریزین، لوراٹاڈین یا فیگزو فیناڈین بہتر سمجھی جاتی ہیں کیونکہ ان سے غنودگی کم ہوتی ہے اور اثر زیادہ بہتر ہوتا ہے۔
علاج وقت سے پہلے شروع کریں
ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ علامات ظاہر ہونے کا انتظار نہ کریں بلکہ الرجی سیزن شروع ہونے سے چند ہفتے پہلے ہی علاج شروع کر دیا جائے تاکہ بہتر نتائج حاصل ہوں۔
باقاعدگی سے دوا استعمال کریں
ادویات کا اثر تب ہی بہتر ہوتا ہے جب انہیں روزانہ اور مستقل استعمال کیا جائے خواہ چاہے علامات موجود ہوں یا نہ ہوں۔
ناک کے اسپرے کا درست طریقہ
اسپرے ناک میں سیدھا اوپر نہیں بلکہ ہلکا سا سائیڈ کی طرف (کان کی سمت) استعمال کرنا چاہیے تاکہ دوا صحیح جگہ پہنچے۔
آنکھوں کے قطرے صحیح طریقے سے استعمال کریں
آنکھوں کے قطرے سر پیچھے کرنے کے بجائے سر ایک طرف جھکا کر اندرونی کونے میں ڈالنے چاہییں تاکہ دوا بہتر پھیل سکے۔
الرجی کے محرکات سے بچاؤ
کھڑکیاں بند رکھنا، باہر جاتے وقت چشمہ یا ماسک پہننا اور گھر آ کر نہانا مفید ہوتا ہے تاکہ پولن کپڑوں اور بالوں سے ہٹ جائے۔
علامات برقرار رہیں تو ڈاکٹر سے رجوع کریں
اگر مناسب علاج کے باوجود علامات برقرار رہیں تو ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے کیونکہ بعض اوقات یہ مسئلہ دمہ یا کسی اور بیماری کی صورت بھی ہو سکتا ہے اور بعض مریضوں کو طویل مدتی علاج جیسے امیونو تھراپی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
یہ مسئلہ پاکستان میں بھی درپیش
ہی فیور پاکستان میں بھی ایک عام مسئلہ بنتا جا رہا ہے خاص طور پر بڑے شہروں جیسے لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں اس کے باعث خاصے مسائل دیکھنے میں آتے ہیں۔
یہاں موسمِ بہار اور گرمی کے آغاز پر پولن کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس کے باعث لوگوں میں چھینکیں، ناک بہنا اور آنکھوں میں جلن جیسی علامات عام ہو جاتی ہیں۔
پاکستان میں اس مسئلے کی بڑی وجوہات میں درختوں اور پودوں سے نکلنے والا پولن، فضائی آلودگی، گاڑیوں کا دھواں اور گرد و غبار شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: بارش میں باہر نکلنے کے 4 حیرت انگیز فوائد، تحقیق کیا کہتی ہے؟
شہروں میں بڑھتی ہوئی ٹریفک اور صنعتی سرگرمیاں بھی ہوا کے معیار کو خراب کرتی ہیں جس سے الرجی کے کیسز میں اضافہ ہوتا ہے۔ بعض علاقوں میں کٹائی اور صفائی نہ ہونے کی وجہ سے بھی پولن زیادہ دیر تک فضا میں موجود رہتا ہے۔
ماہرین کے مطابق موسمی تبدیلیاں اور بڑھتی ہوئی آلودگی اس بیماری کو مزید بڑھا رہی ہیں جس کے باعث ہر سال زیادہ لوگ اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ اگر احتیاطی تدابیر نہ اپنائی جائیں تو علامات نہ صرف تکلیف دہ ہو سکتی ہیں بلکہ روزمرہ زندگی اور کام کاج پر بھی اثر ڈال سکتی ہیں۔
پاکستان میں اس الرجی سے متاثر افراد کتنے؟
واضح رہے کہ ہی فیور یا الرجک رائنائٹس سے متاثرہ افراد کی پاکستان میں ہر سال کوئی ایک بالکل حتمی یا فکس تعداد موجود نہیں ہے کیونکہ یہ مسئلہ موسم، پولن کی مقدار، شہروں کی آلودگی اور علاقائی فرق کے ساتھ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ تاہم مختلف طبی مطالعات کے مطابق پاکستان کی تقریباً 24 سے 25 فیصد آبادی کسی نہ کسی حد تک اس الرجی کا شکار پائی گئی ہے جبکہ بعض علاقوں میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ رپورٹ ہوئی ہے۔
اس طرح ملک میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہر سال پولن اور موسمی الرجی سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: مارگلہ کے سائے میں اسموگ کا راج: کیا ہم نے اپنا ’گرین سٹی‘ کھو دیا؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ بہت سے لوگ ہلکی علامات کو رپورٹ نہیں کرتے یا نظر انداز کر دیتے ہیں اس لیے اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی، گرد و غبار اور موسمی تبدیلیاں اس مسئلے کو مزید بڑھا رہی ہیں جس کے باعث ہر سال اس کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔












