لاہور دورے سے قبل سہیل آفریدی کی محمود اچکزئی سے ملاقات، کیا اچکزئی کا پی ٹی آئی پر کنٹرول مضبوط ہوگیا؟

بدھ 29 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے عمران خان رہائی موومنٹ کے سلسلے میں لاہور دورے سے قبل اتحادی و ہم خیال رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے اہم ملاقات کی ہے، جو سیاسی فیصلوں میں عدم مشاورت کے باعث پی ٹی آئی اور سہیل آفریدی سے ناراض تھے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اسلام آباد میں محمود اچکزئی کی رہائش گاہ گئے، جہاں ان سے ملاقات کی اور سیاسی امور اور عمران خان کی رہائی کے حوالے سے بات چیت کی۔

مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا بغیر مشاورت دورہ کشمیر و لاہور، کیا اچکزئی مائنس ہو گئے؟

ملاقات میں کن امور پر بات ہوئی؟

وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں علامہ راجا ناصر عباس، اسد قیصر، مصطفیٰ نواز کھوکھر، حسین احمد یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری بھی شریک تھے، جس میں عمران خان کی صحت اور علاج معالجے، قانونی دستاویزات پر دستخط سے روکے جانے اور انصاف تک رسائی میں درپیش رکاوٹوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں آئندہ بجٹ، این ایف سی ایوارڈ، صوبائی حقوق، ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور سیاسی انتقام پر مبنی مقدمات پر بھی تفصیل سے گفتگو کی گئی، اور قومی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔

اس کے علاوہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان رابطوں کو مزید مضبوط بنانے اور بجٹ میں عوام کے معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اور مربوط حکمت عملی اختیار کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

سہیل آفریدی اچانک محمود اچکزئی کے پاس کیوں گئے؟

وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور کی جانب سے جاری آفیشل بیان میں بتایا گیا کہ سہیل آفریدی سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایت پر محمود اچکزئی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کرنے گئے۔

تاہم اندرونی معاملات سے باخبر لوگوں کا کہنا ہے کہ محمود اچکزئی پی ٹی آئی اور سہیل آفریدی سے ناراض تھے اور اپنے آپ کو اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کو ان کے سیاسی فیصلوں سے دور رکھے ہوئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ محمود اچکزئی کو عمران خان کی جانب سے احتجاج اور جلسوں کا اختیار دیا گیا ہے، لیکن سہیل آفریدی ان سے بغیر مشاورت سیاسی فیصلے کرنے لگے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ 9 اپریل کا راولپنڈی جلسہ، جو بعد میں ملتوی کیا گیا، اور پھر 19 اپریل کو مردان میں ہونے والا جلسے کا اعلان محمود اچکزئی سے مشاورت کے بغیر کیا گیا، جس کی وجہ سے محمود اچکزئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے دیگر رہنماؤں نے شرکت نہیں کی، جبکہ محمود اچکزئی آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں ہونے والے جلسے میں بھی شریک نہیں ہوئے۔

پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے بتایا کہ عمران خان کی واضح ہدایت ہے کہ جو بھی سیاسی سرگرمی ہوگی، وہ محمود اچکزئی کی سربراہی میں ہوگی، لیکن سہیل آفریدی نے انہیں نظر انداز کرنا شروع کردیا تھا۔ ’محمود اچکزئی اتحادی ہیں، ان کی موجودگی سے دباؤ بڑھتا ہے اور عمران خان خود چاہتے ہیں کہ ان کے لیے آواز وہ اٹھائیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ سہیل آفریدی نے بغیر مشاورت آزاد کشمیر اور لاہور کے دوروں کا اعلان کیا، جس کے بعد پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے سہیل آفریدی کو محمود اچکزئی کا پیغام پہنچایا۔

انہوں نے بتایا کہ سہیل آفریدی محمود اچکزئی کی ناراضی دور کرنے اور آئندہ مشاورت کی یقین دہانی کرانے گئے تھے۔ ’سہیل آفریدی کا اچکزئی کے گھر جانا ہی یہ پیغام ہے کہ ان کے بغیر کچھ نہیں ہوگا۔‘

پی ٹی آئی کے ایک اور رہنما نے بتایا کہ سہیل آفریدی کا وہاں جانا مجبوری بھی ہے۔ ان کے مطابق محمود اچکزئی کچھ نہیں کررہے، جبکہ تنقید سہیل آفریدی پر ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ سہیل آفریدی بنیادی طور پر محمود اچکزئی کو منانے گئے تھے، اور شاید وہ مان بھی گئے ہوں تاکہ لاہور دورے میں ان کی حمایت حاصل ہو سکے۔

’لاہور میں کارروائی اور گرفتاریوں کا خدشہ ہے، اور قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر اور دیگر جماعتوں کے لوگ ہوں گے تو دباؤ زیادہ ہوگا۔‘

کیا پی ٹی آئی اور محمود اچکزئی کے درمیان دوریاں ختم ہوگئی ہیں؟

اندرونی حالات سے باخبر ذرائع کے مطابق اس وقت پی ٹی آئی خود بھی اندرونی اختلافات کا شکار ہے، جبکہ محمود اچکزئی سے بھی دوریاں بڑھ گئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سہیل آفریدی نے بیرسٹر گوہر اور دیگر قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی سے ملاقات کرکے آئندہ مشاورت اور مل کر سیاسی فیصلے کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، تاہم محمود اچکزئی پی ٹی آئی رہنماؤں کے رویے سے کچھ زیادہ خوش نہیں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کا گلہ ہے کہ محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی میں اور باہر عمران خان کے حوالے سے مؤثر آواز نہیں اٹھا رہے، جبکہ محمود خان اچکزئی کا شکوہ ہے کہ پی ٹی آئی قیادت سیاسی طور پر ناپختہ ہے، جس کی وجہ سے دوریاں بدستور برقرار ہیں۔

عارف حیات پشاور کے سینیئر صحافی ہیں، جو سیاسی معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی اور محمود اچکزئی کے طرز سیاست میں فرق بھی اختلافات اور دوریوں کی بنیادی وجہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ محمود اچکزئی سیاسی مخالفین پر تنقید بھی ایک دائرے میں رہ کر کرتے ہیں، جبکہ احتجاج بھی سیاسی دائرے میں رہ کر کرتے ہیں۔

’محمود خان اچکزئی اور پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت کے درمیان کافی دوریاں ہیں۔ دونوں جانب ایک دوسرے کو زیادہ پسند بھی نہیں کیا جا رہا، لیکن ساتھ چلنا مجبوری ہے۔ دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ محمود اچکزئی اور پی ٹی آئی کا اتحاد یا جوڑی زیادہ کامیاب نظر نہیں آ رہی، کیونکہ دونوں کا طرز سیاست مختلف ہے۔

دوسری جانب نوجوان صحافی شہاب الرحمان اس سے اختلاف کرتے ہیں۔ ان کے مطابق محمود خان اچکزئی پی ٹی آئی کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور عمران خان کی رہائی کے حق میں ہیں۔

مزید پڑھیں: ’پاکستان زندہ باد، پاک فوج زندہ باد‘: محمود اچکزئی کا حکومت کی غیرمشروط حمایت کا اعلان

’محمود اچکزئی نے پوری زندگی اپوزیشن کی سیاست کی ہے، جلسے، جلوس اور احتجاجی سیاست ان کا معمول ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ سہیل آفریدی کا محمود اچکزئی کے گھر جانا ان کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے، اور یہ کہ ان کے گھر جانے سے ان کی ناراضی اور تحفظات ختم ہوگئے ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تھراپی کے ساتھ ساتھ ورزش اور اچھے دوستوں کی صحبت ذہنی سکون کے لیے ناگزیر ہے، زارا نور عباس

آن لائن ملازمت کے متلاشی ہوشیار: جعلی کلاؤڈ فلیئر کے ذریعے  بڑا فراڈ بے نقاب

اسلام آباد کے پیٹرول پمپس پر شہریوں کا جم غفیر، انتظامیہ کی اہم ہدایت

پیٹرول پرائس میں اضافہ، پی ٹی آئی میں لڑائیاں، ایران نے امریکا کو حتمی تجاویز بھیج دیں

’میں نے ہر اصول کی خلاف ورزی کی‘، کمپنی کا پورا ڈیٹا بیس ٹھکانے لگانے کے بعد اے آئی ایجنٹ کلاڈ کا اعتراف

ویڈیو

پیٹرول پرائس میں اضافہ، پی ٹی آئی میں لڑائیاں، ایران نے امریکا کو حتمی تجاویز بھیج دیں

کیا امریکا اور ایران میں امن معاہدہ ہوگا؟ جانیے ارکانِ پارلیمنٹ کی رائے

ماں کی دعا، بیٹا کرکٹ کمنٹیٹر بن گیا

کالم / تجزیہ

امریکی دبدبہ

چندی گڑھ میں لاہوری

جعفر پناہی کی آف سائیڈ کھلاڑی