ایک نئی اور منفرد ٹیکنالوجی سامنے آئی ہے جو آگ بجھانے کے لیے پانی یا کیمیکلز کے بجائے آواز کی لہروں کا استعمال کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 20 ہزار روپے کے لیے بھائی قبر کھود کر بہن کا ڈھانچہ بینک لے آیا
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس جدید نظام کو سونک فائر ٹیک نے تیار کیا ہے جس کے شریک بانی جیف برودر ہیں اور جو ماضی میں ناسا کے ساتھ بھی کام کر چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق آگ کے لیے 3 بنیادی عناصر حرارت، ایندھن اور آکسیجن ضروری ہوتے ہیں اور ان میں سے کسی ایک کو ختم کر دیا جائے تو آگ بجھ سکتی ہے۔
اس ٹیکنالوجی میں کم فریکوئنسی (انفراساؤنڈ) آواز کی لہروں کے ذریعے آکسیجن کے مالیکیولز کو ایندھن سے دور کیا جاتا ہے جس سے آگ کو برقرار رکھنے والا کیمیائی عمل رک جاتا ہے۔
جیف برودر کے مطابق یہ نظام دراصل آکسیجن کو اس رفتار سے ہلاتا ہے کہ ایندھن اسے استعمال نہیں کر پاتا یوں آگ خود بخود بجھنے لگتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ آواز کے ذریعے آگ پر قابو پانے کا تصور نیا نہیں۔ ماہرین کے مطابق سائنٹفک امریکن کی رپورٹس میں بھی اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ آواز کا شعلوں پر اثر پہلے سے معلوم ہے اور ڈی اے آر پی اے بھی اس پر تحقیق کر چکی ہے۔
مزید پڑھیے: بھارت: ڈیلیوری ورکر کا ذمہ دارانہ برتاؤ، خاتون کا گھر کھلا دیکھ کر غیر معمولی طرز عمل
تاہم اس ٹیکنالوجی کو عملی شکل دینا ایک بڑا چیلنج تھا جسے سونک فائر ٹیک نے کم فریکوئنسی آواز (20 ہرٹز یا اس سے کم) استعمال کر کے حل کیا جو انسانی کان سے سنائی نہیں دیتی مگر آگ پر مؤثر ثابت ہوتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق سان برنارڈینو کاؤنٹی فائر ڈیپارٹمنٹ نے اس کمپنی کے تیار کردہ ایک پہننے کے قابل (ویئرایبل) فائر فائٹنگ ڈیوائس کا کامیاب تجربہ بھی کیا ہے۔
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو گھروں میں بھی نصب کیا جا سکتا ہے جہاں یہ سینسرز کے ذریعے خودکار طور پر آگ کا پتہ لگا کر اسے بغیر نقصان کے بجھا سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نظام خاص طور پر کچن میں لگنے والی آگ، جیسے تیل کی آگ کے لیے مؤثر ہو سکتا ہے جہاں پانی ڈالنے سے آگ مزید پھیل سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: سورج کے 2 طاقتور دھماکے، زمین پر جیومقناطیسی طوفان کا خدشہ
تاہم فی الحال یہ ٹیکنالوجی صرف چھوٹے پیمانے کی آگ تک محدود ہے اور بڑے جنگلاتی یا وسیع پیمانے کی آگ بجھانے کے لیے استعمال نہیں کی جا سکتی۔














