2.4 ارب ڈالر کی ایئرپورٹ سیکیورٹی سے متعلق مبینہ سرمایہ کاری سے متعلق دعوے پر وضاحت کرتے ہوئے حکومت کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی سسٹمز کی خریداری کا عمل شفاف اور قواعد کے مطابق جاری ہے۔
حالیہ دنوں بعض میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ سامنے آیا کہ ایک امریکی کمپنی کی جانب سے ایئرپورٹ سیکیورٹی نظام کے لیے 2.4 ارب ڈالر کی ’سرمایہ کاری کی پیشکش‘ تاخیر کا شکار ہے۔
تاہم سرکاری و متعلقہ ذرائع کے مطابق یہ بیانیہ مبالغہ آرائی اور گمراہ کن تاثر پر مبنی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی پورٹ اور ایئرپورٹ پر چہرہ شناس نظام کا استعمال، یہ ٹیکنالوجی کیا ہے اور عام مسافر کو کیا فائدہ ہورہا ہے؟
حکام کے مطابق ایئرپورٹ سیکیورٹی سسٹمز کی خریداری یا اپ گریڈیشن کسی بھی ’سرمایہ کاری ڈیل‘ کے طور پر نہیں بلکہ ایک باقاعدہ سرکاری پروکیورمنٹ عمل کے تحت کی جاتی ہے۔
جو پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قواعد کے مطابق شفاف، مسابقتی اور میرٹ پر مبنی بولی کے ذریعے مکمل کیا جاتا ہے۔
سرکاری مؤقف کے مطابق کسی بھی کمپنی یا فرد کو خصوصی ترجیح نہیں دی جا رہی، جبکہ حتمی فیصلے کا انحصار تکنیکی جانچ، شفاف بولی اور لاگت و معیار کے جائزے پر ہوگا۔
مزید پڑھیں: تربت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فل اسکیل ایمرجنسی مشق کا انعقاد، متعدد اداروں کی شرکت
مزید بتایا گیا ہے کہ مجوزہ سیکیورٹی نظام کے لیے ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ تمام مسافروں کا ڈیٹا پاکستان کے اندر محفوظ رہے اور اس پر مکمل خودمختار کنٹرول برقرار ہو، تاکہ قومی سلامتی کے تقاضوں پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔
ذرائع کے مطابق میڈیا میں زیر گردش 2.4 ارب ڈالر کی رقم بھی محض اندازوں اور قیاس آرائیوں پر مبنی ہے، جبکہ اصل لاگت کا تعین مکمل تکنیکی جانچ اور کھلی بولی کے بعد ہی کیا جائے گا۔
دوسری جانب بعض رپورٹس میں ایک نجی شعبے سے منسلک شخصیت کی جانب سے اس منصوبے کو ’بڑی سرمایہ کاری‘ کے طور پر پیش کیے جانے کے دعوے کیے گئے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر کسی قسم کی توثیق موجود نہیں ہے۔
مزید پڑھیں: مسافروں کی کلیئرنس اب چند منٹوں میں مکمل، لاہور ایئرپورٹ پر جدید ’سیلف بورڈنگ مشینیں‘ لگ گئیں
حکام نے واضح کیا ہے کہ پاکستان ایئرپورٹ سیکیورٹی کی اپ گریڈیشن کا پورا عمل صرف شفافیت، قانون کی پابندی، میرٹ اور قومی سلامتی کے اصولوں کے تحت آگے بڑھایا جائے گا۔
مزید کہا گیا ہے کہ اس نوعیت کی قیاس آرائیوں اور غیر مصدقہ دعوؤں کا مقصد ادارہ جاتی عمل پر غیر ضروری دباؤ ڈالنا اور عوامی رائے کو متاثر کرنا ہو سکتا ہے، لہٰذا عوام اور میڈیا سے درخواست ہے کہ معلومات کی تصدیق کے بغیر کسی بھی دعوے کو آگے نہ بڑھائیں۔













