پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے پہلے ہی مشکلات کا شکار بھارتی ایئرلائنز نے خبردار کیا ہے کہ ایران جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے نے صورتحال کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ آپریشنز تقریباً بند ہونے کے قریب ہیں۔ ایئر انڈیا، انڈیگو اور اسپائس جیٹ نے وفاقی حکومت سے فوری مالی مدد کی اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ہوا بازی کی صنعت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔
فیڈریشن آف انڈین ایئرلائنز، جو بڑی ایئرلائنز کی نمائندگی کرتی ہے، نے حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے قریب رکاوٹوں کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے صنعت کو ’آپریشنز روکنے‘ کے قریب پہنچا دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایئرلائنز نے ایوی ایشن ٹربائن فیول (ATF) پر عائد 11 فیصد ایکسائز ڈیوٹی کو عارضی طور پر موخر کرنے اور ملکی و بین الاقوامی پروازوں کے لیے یکساں فیول پرائسنگ نظام نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے حادثات اور پاکستانی فضائی حدود کی بندش، ایئر انڈیا کو اربوں ڈالر نقصان کا سامنا
ایئرلائنز کے آپریٹنگ اخراجات میں ATF کا حصہ تقریباً 40 فیصد ہوتا ہے۔ گزشتہ ماہ حکومت نے اندرونِ ملک پروازوں کے لیے فی لیٹر قیمت میں اضافے کو 15 بھارتی روپے تک محدود رکھا، جبکہ بین الاقوامی پروازوں کے لیے یہی اضافہ 73 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا۔
26 اپریل کو وزارت شہری ہوا بازی کو لکھے گئے خط میں فیڈریشن نے خبردار کیا کہ فیول قیمتوں میں غیرمنصفانہ یا غیرمتوازن اضافہ ایئرلائنز کے لیے ناقابلِ برداشت مالی نقصانات کا باعث بنے گا، جس کے نتیجے میں طیارے گراؤنڈ کرنے اور پروازوں کی منسوخی ناگزیر ہو جائے گی۔
خط میں مزید کہا گیا کہ موجودہ حالات میں بقا اور آپریشنز جاری رکھنے کے لیے حکومت کی فوری اور مؤثر مالی مدد ناگزیر ہے۔
ایئرلائنز کا کہنا ہے کہ اپریل کے دوران حالات اس حد تک خراب ہو چکے ہیں کہ ملکی اور بین الاقوامی دونوں آپریشنز عملی طور پر غیرمنافع بخش ہو گئے ہیں، جس سے شعبے کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
صورتحال اُس وقت پیچیدہ ہو گئی جب گزشتہ برس اپریل میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے بعد پاکستان نے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھی، جس سے بھارتی ایئرلائنز کی تقریباً 800 ہفتہ وار پروازیں متاثر ہوئیں۔ اطلاعات کے مطابق ایئر انڈیا کو اس پابندی کے باعث سالانہ 60 کروڑ ڈالر تک نقصان کا خدشہ ہے۔
آبنائے ہرمز اور تیل کی ترسیل کا بحران
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے روزانہ عالمی تیل کی تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ کارروائی کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے باعث اس گزرگاہ میں خلل پیدا ہوا۔
اگرچہ اس وقت جنگ بندی نافذ ہے اور سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم ایران نے اس دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت بند کر دی ہے، جبکہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر اپنی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق اس صورتحال کے نتیجے میں تقریباً ایک کروڑ 10 لاکھ بیرل یومیہ تیل عالمی منڈی سے باہر ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیے پاکستانی فضائی حدود کی بندش، بھارتی ایئرلائنز کو یومیہ کروڑوں کا نقصان
انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے مطابق 24 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے میں جیٹ فیول کی اوسط قیمت 179 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ خلیجی ریفائنریز بڑی مقدار میں ڈیزل اور جیٹ فیول بھی پیدا کرتی ہیں۔
افریقہ اور ایشیا کے کئی ممالک، جو مشرقِ وسطیٰ پر زیادہ انحصار کرتے ہیں، پہلے ہی ایندھن اور بجلی کی راشننگ پر مجبور ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب یورپی کمیشن اور اس کے رکن ممالک نے کم از کم قلیل مدت کے لیے توانائی کی فراہمی کے حوالے سے صارفین کو تسلی دینے کی کوشش کی ہے۔














