سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی نے عدالتوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال کے لیے قومی گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں۔ ان ہدایات کے تحت اے آئی کو ججز کی معاونت تک محدود رکھا گیا ہے جبکہ عدالتی فیصلوں کا اختیار بدستور انسانی ججز کے پاس رہے گا۔
تفصیلات کے مطابق نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی نے عدالتوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال کے لیے قومی سطح کی گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں، جس کا اعلان سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق عدالتوں میں اے آئی کا کردار معاونت تک محدود ہوگا اور یہ ججز کے فیصلوں کا متبادل نہیں بنے گی۔ واضح کیا گیا ہے کہ حتمی عدالتی اختیار بدستور ججز کے پاس ہی رہے گا۔
یہ بھی پڑھیے اے آئی کا استعمال کیوں کیا؟ نیویارک ٹائمز نے صحافی کو برخاست کردیا
گائیڈ لائنز میں شفافیت، احتساب اور کسی بھی قسم کے تعصب سے بچاؤ کو بنیادی اصول قرار دیا گیا ہے، جبکہ عدالتی نظام میں اے آئی کے استعمال کے لیے پرائیویسی اور ڈیٹا سیکیورٹی کو لازمی تقاضہ قرار دیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کے مطابق اے آئی کو کیس مینجمنٹ، قانونی تحقیق اور دستاویزات کی پراسیسنگ جیسے امور میں استعمال کیا جائے گا تاکہ عدالتی نظام کی کارکردگی بہتر بنائی جا سکے۔
اعلامیے میں مزید بتایا گیا ہے کہ ججز اور عدالتی عملے کی تربیت کے لیے خصوصی پروگرام شروع کیے جائیں گے تاکہ وہ اے آئی ٹیکنالوجی کو مؤثر انداز میں استعمال کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیے کیا ایف آئی اے کی جدید اے آئی ٹیکنالوجی مجرموں کو پکڑنے میں مدد دے گی؟
یہ گائیڈ لائنز تمام ہائیکورٹس کی مشاورت سے تیار کی گئی ہیں، جبکہ ہر ہائیکورٹ اپنی ضروریات کے مطابق اے آئی کے نفاذ کا طریقہ کار خود طے کرے گی۔
سپریم کورٹ نے اس پیش رفت کو پاکستان کے عدالتی اصلاحاتی سفر میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔














