پاکستان کے نامور ڈراموں میں کم عمر اداکاراؤں کو ان کی اصل عمر سے کہیں زیادہ پختہ عمر اور ازدواجی کرداروں میں پیش کرنے پر سماجی ماہرین اور دانشوروں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
حال ہی میں شائع ہونے والے ایک تنقیدی جائزے میں یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ ‘میم سے محبت’، ‘کفیل’ اور ‘پرورش’ جیسے ڈراموں میں لڑکیوں کو طالبات یا اپنی شناخت تلاش کرنے والے نوعمر کرداروں کے بجائے شادی کے قابل بالغوں اور بیویوں کے طور پر دکھایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش نے پاکستانی ڈرامے ’کبھی میں کبھی تم‘ کی نقل تیار کرلی، مداحوں کا موازنہ
تجزیہ کار اقرا شگفتہ چیمہ کے مطابق ٹی وی اسکرین پر لڑکیوں کی ‘ایڈلٹی فیکیشن’ (قبل از وقت بڑا بنانا) کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ ان ڈراموں میں دکھایا جاتا ہے کہ اسکول جانے والی لڑکیاں نہ صرف شادیاں کر رہی ہیں بلکہ وہ اپنے سے بڑی عمر کے مردوں کے لیے جذباتی سہارا اور بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ دار بھی بن رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ رجحان معاشرے میں اس تصور کو تقویت دے رہا ہے کہ لڑکیوں کا اصل مقصد صرف شادی اور گھرداری ہے، جبکہ ان کی تعلیم اور انفرادی ترقی کو ثانوی حیثیت دے دی گئی ہے۔
رپورٹ میں ‘میم سے محبت’ کی مثال دیتے ہوئے کہا گیا کہ کس طرح ایک نوعمر لڑکی (روشی) کو اس کے باس کے ساتھ رومانوی تعلق میں دکھایا گیا اور آخر میں اس کی ‘ضد’ کو جیت قرار دے کر ایک بڑی عمر کے شخص سے اس کی شادی کو رومانوی رنگ دے دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی خواتین آج کل کے ٹی وی ڈراموں میں خود کو کیوں نہیں دیکھ پاتیں؟
اسی طرح خواتین کے حقوق پر مبنی ڈرامہ ‘کفیل’ پر بھی تنقید کی گئی کہ اس میں بھی اسکول جانے والی لڑکیوں کی گفتگو کا محور صرف شادی اور اچھے گھرانے کی تلاش تک محدود رکھا گیا ہے، جو کہ ایک ‘کھوکھلی نسوانیت’ کی عکاسی کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مواد سے مردانہ ناظرین میں یہ غلط فہمی پیدا ہوتی ہے کہ کم عمر لڑکیاں ان کے لیے رومانوی طور پر دستیاب ہونی چاہئیں، جبکہ لڑکیوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ان کی اصل قدر صرف ان کی جوانی اور معصومیت میں ہے۔
مزید برآں، یہ رجحان انڈسٹری میں ‘ایج ازم’ (عمر کی بنیاد پر تفریق) کو بھی جنم دے رہا ہے۔ پروڈیوسرز کی جانب سے ‘معصومیت’ کے نام پر 15 سے 16 سال کی لڑکیوں کو ہیروئن کاسٹ کرنے کی وجہ سے سینئر اور تجربہ کار اداکاراؤں کے لیے کام کے مواقع محدود ہوتے جارہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’ہر قسط کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں‘، بھارتی اداکار جونی لیور کس پاکستانی ڈرامے کے مداح نکلے؟
ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈرامہ نگاروں اور پروڈیوسرز کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے اور لڑکیوں کو صرف ‘شادی کے قابل بوجھ’ کے بجائے خود مختار اور باشعور انسانوں کے طور پر پیش کرنا چاہیے۔














