پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے تعین کے فارمولے میں تبدیلی، کیا اثرات ہوں گے؟

جمعرات 30 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاک ایران کشیدگی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے بڑھتے ہوئے نرخوں کے تناظر میں وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے تعین کے فارمولے میں اہم تبدیلی کر دی ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد قیمتوں کے نظام کو زمینی حقائق سے ہم آہنگ بنانا، مقامی ریفائنری صنعت کو مضبوط کرنا اور غیر معمولی منافع کی روک تھام یقینی بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: موجودہ تیل بحران اور 1973 کے عالمی تیل بحران میں کیا فرق ہے؟

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے واضح کیا ہے کہ ڈیزل کی قیمت کے تعین کے فارمولے میں کی گئی تبدیلی کسی دباؤ کا نتیجہ نہیں بلکہ جامع پالیسی اصلاحات کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق پیٹرولیم ڈویژن اور مقامی ریفائنریز کے درمیان رضاکارانہ معاہدہ طے پایا ہے، جبکہ ماہرین اور ریسرچ ٹیم سے مشاورت کے بعد عبوری فارمولا تشکیل دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی ترجیح مقامی ریفائنریز کو اپ گریڈ کرنا اور بتدریج مکمل ڈی ریگولیشن کی جانب بڑھنا ہے تاکہ پاکستان کے پیٹرولیم شعبے کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ ان کے بقول ریفائنریز کو منصفانہ قیمت فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ وہ جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کریں اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی پیداوار میں اضافہ کر سکیں۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ مسابقت میں اضافے سے صارفین کے مفادات کا بہتر تحفظ ممکن ہوگا جبکہ پالیسی کے تسلسل سے معیشت کو استحکام حاصل ہوگا۔ انہوں نے سیاسی حلقوں پر زور دیا کہ تنگ نظری پر مبنی سیاست کو ترک کر کے قومی مفاد میں فیصلوں کی حمایت کی جائے۔

سینیئر بزنس رپورٹر خلیق کیانی نے وی نیوز سے گفتگو میں اس پالیسی تبدیلی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ڈیزل کی قیمتوں کا تعین بنیادی طور پر پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کی درآمدی قیمت کو بنیاد بنا کر کیا جاتا تھا۔ ان کے مطابق اس نظام کے تحت چاہے ڈیزل درآمد کیا جائے یا مقامی ریفائنریز میں تیار کیا جائے دونوں صورتوں میں ایک ہی قیمت نافذ ہوتی تھی۔

مزید پڑھیے: تیل کے عالمی بحران کے دوران توانائی کے صاف اور قابل تجدید ذرائع پر اعتماد بڑھنے لگا، رپورٹ

خلیق کیانی نے بتایا کہ اس قیمت میں درآمدی بل، کسٹم ڈیوٹی، ڈیلر اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مارجن، لیویز اور دیگر اخراجات شامل کیے جاتے تھے تاہم وقت کے ساتھ عالمی منڈی میں خام تیل اور تیار شدہ ڈیزل کی قیمتوں کے درمیان نمایاں فرق پیدا ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خام تیل کی قیمت نسبتاً کم رہتی تھی جبکہ تیار شدہ ڈیزل کی عالمی قیمت زیادہ ہوتی تھی جس کے ساتھ 35 سے 40 ڈالر فی بیرل تک امپورٹ پریمیم بھی شامل ہوتا تھا۔ ان کے مطابق اس صورتحال میں مقامی ریفائنریز، جو درآمد شدہ خام تیل کو ریفائن کر کے ڈیزل تیار کرتی ہیں انہیں بھی اسی بلند قیمت پر فروخت کی اجازت حاصل تھی جو درآمد شدہ ڈیزل کی تھی۔

نتیجتاً مقامی ریفائنریز کو غیر معمولی منافع حاصل ہونے لگا جو بعض اوقات 100 سے 150 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا۔ ماہرین کے مطابق عام حالات میں یہ مارجن 5 سے 15 روپے فی لیٹر تک ہوتا ہے، جس کی بنیاد پر ریفائنریز اپنی کاروباری منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری کرتی ہیں تاہم حالیہ فرق کو غیر منصفانہ قرار دیا جا رہا تھا۔

اسی تناظر میں حکومت نے ریفائنریز کے ساتھ مشاورت کے بعد قیمتوں کے تعین کے نظام میں تبدیلی کی ہے۔ نئے فارمولے کے تحت اب کسی ایک دن کی قیمت کے بجائے ایک مخصوص مدت کی اوسط قیمت کو بنیاد بنایا جائے گا تاکہ عالمی منڈی میں ہونے والے اتار چڑھاؤ کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔

مزید پڑھیے: دنیا کو تاریخ کے سب سے بڑے توانائی بحران کا سامنا ہے، بین الاقوامی توانائی ایجنسی

مقامی پیداوار اور درآمدی لاگت کے درمیان فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک متوازن اوسط نکالی جائے گی جس سے غیر معمولی منافع کی گنجائش کم ہو گی اور قیمتیں زیادہ حقیقت پسندانہ سطح پر آ سکیں گی۔

خلیق کیانی کے مطابق اس تبدیلی سے فوری طور پر عوام کو قیمتوں میں نمایاں کمی محسوس نہیں ہوگی کیونکہ عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اب بھی بلند ہیں، تاہم اگر پرانا فارمولا برقرار رہتا تو قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا تھا۔

حکام کے مطابق نئے نظام سے نہ صرف قیمتوں میں استحکام آئے گا بلکہ مقامی ریفائنری صنعت کو بھی طویل مدتی بنیادوں پر فائدہ ہوگا۔ اس پالیسی کے ذریعے حکومت ایک ایسا فریم ورک قائم کرنا چاہتی ہے جس میں شفافیت، مسابقت اور صنعتی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے: تیل کے بحران پر قابو پانے کے لیے انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے کونسے کام تجویز کیے؟

معاشی ماہرین کے مطابق اگر اس پالیسی پر تسلسل کے ساتھ عمل درآمد کیا گیا تو یہ نہ صرف پیٹرولیم سیکٹر بلکہ مجموعی معیشت کے لیے بھی مثبت نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp