بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے خبردار کیا ہے کہ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث دنیا کو تاریخ کے سب سے بڑے توانائی تحفظ کے خطرے کا سامنا ہے جس سے عالمی توانائی سپلائی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موجودہ تیل بحران اور 1973 کے عالمی تیل بحران میں کیا فرق ہے؟
فاتح بیرول نے سنگاپور میں ہونے والے بین الاقوامی سطح کی کانفرنس و بزنس ایونٹ کنورج لائیو ایونٹ کے دوران سی این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ عالمی منڈیاں پہلے ہی روزانہ تقریباً 13 ملین بیرل تیل کی سپلائی سے محروم ہو چکی ہیں جبکہ اہم کموڈیٹیز میں بھی شدید خلل پیدا ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران تنازع اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی سطح پر توانائی کا بحران تاریخ کا سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے کیونکہ یہ آبی گزرگاہ عالمی تیل تجارت کا مرکزی راستہ ہے۔
آبنائے ہرمز سے جنگ سے قبل روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل اور پیٹرولیم مصنوعات گزرتی تھیں، لیکن اب صورتحال “ڈبل بلاکیڈ” جیسی ہو چکی ہے، جہاں کسی بھی فریق کو آزادانہ آمد و رفت کی اجازت نہیں۔
مزید پڑھیے: تیل کا عالمی بحران: پاکستان کی واحد صنعت جو ترقی کی راہ پر گامزن
انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے اس آبنائے کو دنیا کے سب سے اہم تیل ٹرانزٹ راستوں میں سے ایک قرار دیا۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق اگر یہ راستہ مکمل طور پر بند رہا تو عالمی اقتصادی ترقی سست پڑ سکتی ہے مہنگائی بڑھ سکتی ہے اور کئی ممالک کو توانائی کی راشننگ پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔
یورپ میں ایندھن کا بحران
فاتح بیرول نے یورپ میں جیٹ فیول کی شدید کمی کا بھی خدشہ ظاہر کیا۔ ان کے مطابق یورپ اپنی تقریباً 75 فیصد جیٹ فیول سپلائی مشرق وسطیٰ کی ریفائنریز سے حاصل کرتا ہے جو اب تقریباً بند ہو چکی ہے۔
مزید پڑھیں: تیل کا عالمی بحران: ہر شعبہ زندگی کو متاثر کرنے والا نیا چیلنج
انہوں نے کہا کہ یورپ اب امریکا اور نائجیریا جیسے ممالک سے متبادل سپلائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اگر صورتحال نہ سنبھلی تو فضائی سفر پر بھی پابندیاں لگ سکتی ہیں۔
ایمرجنسی اقدامات
بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے مارچ میں 400 ملین بیرل تیل اسٹریٹجک ریزروز سے جاری کرنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم بیرول نے خبردار کیا کہ یہ اقدام صرف وقتی ریلیف دے سکتا ہے، مسئلے کا مستقل حل نہیں۔
ان کے مطابق اصل حل آبنائے ہرمز کی بحالی ہے کیونکہ صرف اسٹاک ریلیز سے بحران ختم نہیں ہوگا۔
توانائی کا مستقبل
بیرول نے کہا کہ حکومتوں کو توانائی کے متبادل ذرائع بڑھانے ہوں گے۔ ان کے مطابق جوہری توانائی کو فروغ مل سکتا ہے، شمسی اور ہوا سے توانائی تیزی سے بڑھ سکتی ہے اور الیکٹرک گاڑیاں مزید مقبول ہو سکتی ہیں تاہم کچھ خطوں میں کوئلے اور فوسل فیول کا استعمال وقتی طور پر بڑھ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: تیل کے بحران پر قابو پانے کے لیے انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے کونسے کام تجویز کیے؟
انہوں نے زور دیا کہ توانائی کے نظام کو زیادہ مضبوط اور متنوع بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔













