پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے، قیادت میں تبدیلی کی قیاس آرائیاں

جمعرات 30 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات اور قیادت میں ممکنہ تبدیلی سے متعلق چہ مگوئیاں شدت اختیار کرنے لگی ہیں۔ سلمان اکرم راجہ کے استعفے اور بیرسٹر گوہر علی خان کی تبدیلی سے متعلق افواہیں گردش کر رہی ہیں جبکہ علیمہ خان کی جانب سے قیادت پر تحفظات اور پارٹی عہدے کے لیے اپنی اہلیت سے متعلق بیانات نے صورتحال کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ تاہم پارٹی کے مرکزی رہنماؤں نے فوری طور پر کسی بڑی تنظیمی تبدیلی کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے، شاندانہ گلزار کا علیمہ خان کے انٹرویو پر سخت ردعمل

سلمان اکرم راجہ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ پارٹی نظم و ضبط کے پابند ہیں اور عمران خان سے ملاقات تک اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں سونپی گئی ذمہ داری ان کے لیے باعث اعزاز ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ علیمہ خان پارٹی چیئرمین کے عہدے کے لیے اہل ہیں اور اگر اس وقت عمران خان انہیں کسی عہدے کے لیے نامزد کرتے ہیں تو یہ پارٹی کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل علیمہ خان کے ساتھ ان کے اختلافات کی خبریں منظر عام پر آئی تھیں۔ سلمان اکرم راجہ نے علیمہ خان کی جانب سے عہدوں سے متعلق تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں کسی عہدے کی خواہش نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ماضی میں استعفیٰ بھی دے چکے ہیں، تاہم پارٹی قیادت کی ہدایت پر اسے واپس لیا گیا۔

دوسری جانب علیمہ خان نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ایسا نہیں کہ وہ کسی عہدے کی اہل نہیں تاہم ان کا مؤقف ہے کہ خاندان صرف عمران خان کا ساتھ دے رہا ہے اور پارٹی میں ان سے زیادہ کمیٹڈ اور قابل افراد کو آگے آنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ عمران خان ہی پارٹی کے اصل چیئرمین تھے، ہیں اور رہیں گے اور پارٹی کو بانی کے ویژن کے مطابق چلایا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق ایک سیاسی جماعت بنانے میں عمران خان کو 3 دہائیاں لگیں اس لیے اس کی سمت کا تعین بھی انہی کے نظریے کے مطابق ہونا چاہیے۔

مزید پڑھیے: پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے، شاندانہ گلزار کا علیمہ خان کے انٹرویو پر سخت ردعمل

علیمہ خان نے کہا ہے کہ کارکنان اور قیادت کو خوف کے ماحول سے باہر نکلنا ہوگا کیونکہ عوام اپنے نمائندوں سے توقعات وابستہ کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ووٹ دینے والوں کا حق ہے کہ وہ اپنے نمائندوں سے سوال کریں اور انہیں جواب دہ بنائیں۔

سینیئر تجزیہ کار حماد حسن نے وی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ دنیا بھر میں یہ رجحان دیکھا گیا ہے کہ مقبول رہنماؤں کے ساتھ عوامی وابستگی ان کے بعد بھی برقرار رہتی ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف، اندرا گاندھی اور شیخ مجیب الرحمان جیسے رہنماؤں کے بعد بھی ان کے حامی ان کے بیانیے کے ساتھ کھڑے رہے۔ ان کے مطابق قیادت کی تبدیلی یا اندرونی اختلافات سے عوامی حمایت پر مجموعی طور پر بڑا اثر نہیں پڑتا۔

ادھر پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کی تبدیلی سے متعلق افواہوں کو بھی مسترد کر دیا گیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شیخ وقاص اکرم نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ چیئرمین کی تبدیلی سے متعلق تمام خبریں بے بنیاد ہیں اور بانی چیئرمین کی جانب سے ایسی کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئی۔ اس مؤقف کی تائید سلمان صفدر نے بھی کی ہے۔

بیرسٹر گوہر علی خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے اندر قیادت کا کوئی بحران نہیں اور چیئرمین شپ سے متعلق خبریں محض افواہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف ایک مضبوط جماعت ہے اور ایسی قیاس آرائیاں پارٹی کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہیں۔

مزید پڑھیں: کیا پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات عمران خان کی رہائی میں حائل ہیں؟

علیمہ خان نے گزشتہ دنوں اڈیالہ جیل کے باہر گفتگو کرتے ہوئے پارٹی عہدیداران پر تنقید کی اور کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے تقریباً 70 ہزار عہدیدار ہیں لیکن جیل کے باہر صرف چند سو افراد نظر آتے ہیں، جن میں زیادہ تر افراد کے خاندان یا قریبی رشتہ دار شامل ہوتے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ پارٹی کے تمام عہدے ختم کرکے ایسے افراد کو ذمہ داریاں دی جائیں جو مشکل حالات میں بھی ساتھ کھڑے رہیں اور جیل کے باہر موجود ہوں۔ ان کے مطابق جو لوگ مشکلات یا دباؤ برداشت نہیں کر سکتے، وہ پارٹی عہدوں کے حق دار نہیں ہیں۔

نورین نیازی نے کہا ہے کہ کئی ایسے افراد جو عمران خان کی وجہ سے ایم این ایز اور سینیٹرز بنے وہ اب ان کی رہائی کے لیے اڈیالہ جیل نہیں آتے۔ عمران خان کی ہمشیرہ کے مطابق خاندان کے افراد ہر ہفتے لاہور سے آتے ہیں لیکن اسلام آباد میں موجود رہنما بھی وہاں نہیں پہنچتے جو قابلِ غور بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاندان سیاسی معاملات میں شامل نہیں ہونا چاہتا تاہم پارٹی رہنماؤں کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پی ٹی آئی میرا گھر، اختلافات اور شکوے سب چلتا رہے گا، جنید اکبر نے واضح کردیا

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے اندر اس نوعیت کے اختلافات نئے نہیں ہیں۔ ماضی میں بھی پارٹی کے اہم عہدوں، خصوصاً جنرل سیکریٹری اور دیگر تنظیمی مناصب پر متعدد بار تبدیلیاں کی جا چکی ہیں، جو اکثر اندرونی دباؤ، سیاسی حکمت عملی یا حالات کے تقاضوں کے تحت کی گئیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیرخارجہ اسحاق ڈار کی کویتی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، خطے کی بدلتی صورتحال پر تبادلہ خیال

شہریوں کے دل کھول کر عطیات، کراچی میں عوامی لائبریری بند ہونے سے بچ گئی

امریکا کا نیا دفاعی اقدام، پاکستان سمیت متعدد ممالک کے لیے 488 ملین ڈالر کا ایف 16 ریڈار سپورٹ معاہدہ 

افغانستان میں طالبان دور: سیکیورٹی، معیشت اور انسانی بحران کی سنگین صورتحال

برطانیہ میں امریکی شہریوں کو شدید خطرہ لاحق، امریکی سفارتخانے کا سیکیورٹی الرٹ جاری

ویڈیو

ٹرمپ کا کانگریس کو خط، ایران کے ساتھ مسلح کشیدگی کے خاتمے کا اعلان

پنجاب حکومت کی ’اپنا کھیت اپنا روزگار‘ اسکیم: لیہ کے بے زمین کسان کیا کہتے ہیں؟

ایندھن کی خریداری میں ہڑبونگ: عوام کی گھبراہٹ کتنی بجا، ملک میں ایندھن کتنا باقی؟

کالم / تجزیہ

صحافت بمقابلہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس: کون جیتے گا؟

امریکی دبدبہ

چندی گڑھ میں لاہوری