گوادر سے وسطی ایشیا تک راہیں ہموار، پاکستان کی نئی تجارتی حکمت عملی

جمعرات 30 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اور تاجکستان نے وسطی ایشیا تک رسائی اور دوطرفہ تجارت کے فروغ کے لیے متبادل راہداریوں کی اہمیت پر اتفاق کیا ہے، جبکہ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ خطے میں رابطوں کو مضبوط بنانے میں چین کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

پاکستان نے تاجکستان کو آگاہ کیا ہے کہ وسطی ایشیا کے ساتھ روابط کو مضبوط بنانے کے لیے چین کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون نہایت اہم ہوگا، جبکہ اس سلسلے میں ایک مربوط تجارتی راہداری کی تشکیل پر بھی غور جاری ہے۔

حالیہ پیش رفت میں پاکستان نے ایران کے راستے وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی کے لیے 6 زمینی راستے کھول دیے ہیں۔ اس اقدام سے نہ صرف ایران کو اپنے وہ 3 ہزار کنٹینرز منتقل کرنے میں سہولت مل رہی ہے جو امریکا ایران کشیدگی کے باعث پاکستانی بندرگاہوں پر رکے ہوئے تھے، بلکہ یہ افغانستان کے راستے تجارت میں رکاوٹ کے بعد ایک متبادل روٹ تلاش کرنے کی کوشش بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیے پاکستانی بندرگاہوں سے وسطی ایشیا تک تجارت کا نیا باب کھلنے کو ہے، وزیراعظم شہباز شریف

یہ پیش رفت گوادر بندرگاہ کو فعال بنانے کے لیے بھی اہم قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث گوادر نے ایران، وسطی ایشیائی ممالک اور روس کے لیے ایک متبادل راستہ فراہم کیا تھا۔

سرکاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے منگل کے روز پاکستان میں تعینات تاجک سفیر شریف زادہ یوسف تویر سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تجارت کے فروغ، ٹرانزٹ روابط کی بہتری اور ادارہ جاتی تعاون کو وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر تجارت نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان بہتر لاجسٹکس، متنوع ٹرانزٹ روٹس اور شراکت دار ممالک کے ساتھ قریبی ہم آہنگی کے ذریعے علاقائی تجارت کو فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کواڈری لیٹرل ٹریفک ان ٹرانزٹ ایگریمنٹ (QTTA) سمیت ٹرانزٹ فریم ورک کے تحت اندرونی اقدامات کی بروقت تکمیل ضروری ہے تاکہ موجودہ نظام کو مؤثر بنایا جا سکے۔

انہوں نے ایک مربوط تجارتی راہداری کے قیام کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ لاجسٹکس حب، آف لوڈنگ سہولیات اور ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ نظام کے قیام سے پاکستان اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک مؤثر تجارتی سلسلہ قائم کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے چین کے ساتھ تعاون کلیدی کردار ادا کرے گا۔

یہ بھی پڑھیے گوادر بندرگاہ تک رسائی حاصل کرنے والا پہلا وسطی ایشیائی ملک ترکمانستان، جلد پاکستان سے معاہدے پر دستخط کرے گا

جام کمال خان نے واضح کیا کہ کسی ایک راستے پر انحصار قابلِ عمل نہیں، اس لیے متعدد راہداریوں کو فعال رکھنا ضروری ہے تاکہ تجارت کا تسلسل برقرار رہے اور کسی بھی رکاوٹ سے بچا جا سکے۔

دوسری جانب تاجک سفیر شریف زادہ یوسف نے قابلِ اعتماد اور کم لاگت ٹرانزٹ روٹس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے علاقائی روابط کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے بتایا کہ تاجکستان پاکستان کو اضافی بجلی برآمد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ایلومینیم تجارت سمیت صنعتی شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp