پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بولر محمد عامر نے بابر اعظم کو دوبارہ قومی ٹیسٹ ٹیم کا کپتان مقرر کیے جانے کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مرحلے پر انہیں اضافی ذمہ داری دینے کے بجائے صرف ایک کھلاڑی کے طور پر کھیلنے کا موقع ملنا چاہیے تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پہلا ٹیسٹ: پاکستان ویسٹ انڈیز سے 90 رنز سے شکست کھا گیا، 211 کا ہدف حاصل نہ ہوسکا
کرکٹ ویب سائٹ وزڈن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں محمد عامر سے بابر اعظم کی دوبارہ ٹیسٹ کپتان کے طور پر تقرری پر رائے طلب کی گئی جس پر انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ان کے نزدیک درست نہیں۔
محمد عامر کا کہنا تھا کہ بابر اعظم تقریباً ڈھائی سال کی مشکل فارم کے بعد اب جا کر دوبارہ اچھی کارکردگی دکھانے لگے ہیں ایسے وقت میں انہیں کپتانی دے کر غیر ضروری دباؤ میں ڈال دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا اور کرکٹ کا ماحول بہت سخت ہے جہاں کپتان کو ہر فیصلے اور ہر نتیجے پر جواب دہ ہونا پڑتا ہے اس لیے بابر اعظم کو اس اضافی دباؤ سے دور رکھنا چاہیے تھا۔
مزید پڑھیے: کرکٹ کا سنہری باب بند، پاکستان کیخلاف 365 رنز بنانے والے عظیم آل راؤنڈر سر گیری سوبرز انتقال کر گئے
سابق فاسٹ بولر نے کہا کہ بابر اعظم کافی عرصے بعد دوبارہ اچھی فارم میں آئے ہیں اور اچانک انہیں کپتانی دے دی گئی جس سے ان پر مزید دباؤ بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرے خیال میں انہیں صرف ایک کھلاڑی کے طور پر، آزاد ذہن کے ساتھ کھیلنا چاہیے تھا۔
محمد عامر نے بابر اعظم کو پاکستان کا بہترین بلے باز قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت پاکستان کے واحد ایسے کھلاڑی ہیں جن پر بطور بیٹر مکمل اعتماد کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میرے نزدیک وہ اس وقت پاکستان کے بہترین کھلاڑی ہیں لیکن انہیں دوبارہ کپتان بنانا اچھا فیصلہ نہیں۔
مزید پڑھیں: وکٹ لینے کے بعد پرجوش جشن : آئی سی سی نے خرم شہزاد اور محمد عباس کو سزا سنادی
واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے حال ہی میں شان مسعود کی جگہ بابر اعظم کو قومی ٹیسٹ ٹیم کا کپتان مقرر کیا ہے۔ بابر اعظم اس سے قبل سنہ 2020 سے سنہ 2023 تک بھی پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کر چکے ہیں۔














