اسلام آباد میں وفاقی آئینی عدالت نے اہم کیسز کی سماعت کے لیے شیڈول جاری کر دیا ہے، جن میں نئی گاج ڈیم کی تعمیر اور گریڈ 17 سمیت دیگر سرکاری بھرتیوں سے متعلق معاملات شامل ہیں۔ دونوں مقدمات کو عدالتی سطح پر اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وفاقی آئینی عدالت ججز کا فل کورٹ اجلاس، مقدمات کے جلد فیصلوں اور بیک لاگ کے خاتمے پر زور
نئی گاج ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت 7 مئی کو چیف جسٹس کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ کرے گا۔ عدالت نے اس کیس میں سندھ اور بلوچستان حکومتوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اٹارنی جنرل، پلاننگ کمیشن اور واپڈا سمیت تمام متعلقہ اداروں سے جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے منصوبے کی پیشرفت رپورٹ بھی طلب کی ہے تاکہ تعمیراتی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔

دوسری جانب گریڈ 17 اور اس سے اوپر کی بھرتیوں سے متعلق کیس میں وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا ہے اور تمام فریقین کو نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔ سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ گریڈ 17 سے اوپر بھرتیاں پبلک سروس کمیشن کے بغیر کیسے کی گئیں اور کیا طریقہ کار کو مکمل طور پر فالو کیا گیا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ سندھ حکومت کے ایک پروجیکٹ میں 11 افراد کو گریڈ 17، 18 اور 19 میں بھرتی کیا گیا تھا، جبکہ متعلقہ پروجیکٹ اب ختم ہو چکا ہے۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ تقرریاں اسی پروجیکٹ کے تحت کی گئی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں:وفاقی آئینی عدالت: ججز ٹرانسفر کیس سے متعلق 5 انٹرا کورٹ اپیلیں عدم پیروی کی بنیاد پر خارج
سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ اگر بھرتیوں میں غلطی ہوئی ہے تو اس کی درستگی ضروری ہے، جبکہ یہ بھی کہا گیا کہ 8 سال سے ملازمت کرنے والے افراد کے کیسز کو پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
عدالت نے دونوں معاملات پر مزید کارروائی کے لیے فریقین کو تفصیلی جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔













