سندھ کے پرائمری اسکولوں میں ہندو طلبا کے لیے مذہبی کتب متعارف کرانے کا فیصلہ

جمعرات 30 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سندھ کے محکمہ تعلیم نے صوبے کے سرکاری اسکولوں میں زیرِ تعلیم ہندو طالب علموں کے لیے ایک اہم اور تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے تیسری سے پانچویں جماعت تک کے لیے ہندو مذہبی درسی کتب متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

جمعرات کو سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق، محکمہ تعلیم و خواندگی نے سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کو ایک مراسلہ ارسال کیا ہے جس میں تعلیمی سال 27-2026 کے لیے ان کتب کی فراہمی اور تقسیم کی ہدایت کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نئے تعلیمی نصاب پر اتفاق ہوگیا اسے 8 ویں جماعت تک لاگو کردیں گے، مدد علی سندھی

 یہ فیصلہ سندھ کریکولم کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں کیا گیا ہے تاکہ اقلیتی طلبہ کو ان کے اپنے عقائد کے مطابق تعلیم حاصل کرنے کا حق مل سکے۔

رپورٹ کے مطابق ان کتب کی اشاعت کے اخراجات فی الحال ایک سماجی تنظیم ‘پریم ساگر سنستھا کراچی’ برداشت کرے گی، جبکہ آئندہ تعلیمی سال کے لیے محکمہ تعلیم نے ٹیکسٹ بک بورڈ کو اپنے بجٹ میں ان کتب کے لیے رقم مختص کرنے کی سفارش کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایچ ای سی نے مصنوعی ذہانت کو اعلیٰ تعلیمی نصاب کا لازمی حصہ بنا دیا، گائیڈ لائنز جاری

 واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے بھی 2023 میں اسی نوعیت کا اقدام اٹھاتے ہوئے 7 مختلف اقلیتی گروہوں بشمول مسیحی، سکھ، پارسی اور بدھ مت کے طلبہ کے لیے علیحدہ مذہبی نصاب کی منظوری دی تھی۔

ماہرینِ تعلیم اور سماجی تنظیموں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کے خاتمے اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp