پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے روز بھی فروخت کا دباؤ برقرار رہا، جس کے باعث انڈیکس 2,800 سے زائد پوائنٹس کی بڑی کمی کے ساتھ بند ہوا۔
کاروبار کے آغاز میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 164,357.47 کے انٹرا ڈے ہائی کے قریب کھلا۔
تاہم فوری طور پر فروخت کا دباؤ بڑھ گیا اور یہ دباؤ زیادہ تر صبح کے سیشن میں برقرار رہا۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟
اس دوران انڈیکس ایک موقع پر 160,391.18 کی انٹرا ڈے کم ترین سطح تک گر گیا۔
اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 2,829.70 پوائنٹس یعنی 1.71 فیصد کمی کے بعد 162,994.17 پر بند ہوا۔
ماہرین کے مطابق تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں اضافہ قریبی مدت میں مارکیٹ کے جذبات پر منفی اثر مرتب کررہے ہیں۔
Market Close Update: Negative Today! 👇
🇵🇰 KSE 100 ended negative by -2,829.7 points (-1.71%) and closed at 162,994.2 with trade volume of 366.1 million shares and value at Rs. 28.14 billion. Today's index low was 160,391 and high was 164,357. pic.twitter.com/ATQp7J64Ua— Investify Pakistan (@investifypk) April 30, 2026
حالیہ جغرافیائی سیاسی صورتحال بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کر رہی ہے، جیسے ہی معاشی اور جغرافیائی دباؤ کم ہوگا، مارکیٹ میں بہتری اور استحکام کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
گزشتہ بدھ کے روز بھی مارکیٹ میں شدید مندی دیکھی گئی تھی، جب کمزور کارپوریٹ نتائج، بڑے شیئرز میں فروخت اور بڑھتی ہوئی تیل قیمتوں کے باعث انڈیکس 2,588 پوائنٹس گر گیا تھا۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں شدید اتار چڑھاؤ، 100 انڈیکس میں تقریباً 2,600 پوائنٹس کی کمی
عالمی مارکیٹس میں اس دوران ایشیا میں مصنوعی ذہانت سے متعلقہ اسٹاکس میں بہتری دیکھی گئی، جبکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث بانڈ مارکیٹس دباؤ میں رہیں۔
امریکی فیڈرل ریزرو سمیت دیگر مرکزی بینکوں کی سخت مالیاتی پالیسی کے خدشات بھی برقرار رہے۔

پاکستانی روپے نے انٹر بینک مارکیٹ میں معمولی بہتری دکھائی اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں 0.03 روپے کے اضافے کے ساتھ 278.77 پر بند ہوا۔
مارکیٹ میں مجموعی حجم کم ہو کر 837.37 ملین شیئرز رہا، جبکہ گزشتہ سیشن میں یہ 1,087.44 ملین تھا۔ مجموعی کاروباری مالیت بھی کم ہو کر 36.34 ارب روپے رہی۔
مزید پڑھیں: غیر یقینی عالمی صورتحال اور مہنگی مانیٹری پالیسی، اسٹاک مارکیٹ منفی زون میں
سب سے زیادہ کاروبار ورلڈ کال ٹیلی کام میں ہوا جس کے 75.38 ملین شیئرز ٹریڈ ہوئے، اس کے بعد بینک آف پنجاب اور سینرجی کو پی کے رہے۔
مجموعی طور پر 485 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 101 کمپنیوں کے شیئرز میں اضافہ، 348 میں کمی اور 36 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔













