امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ یورپی یونین سے درآمد ہونے والی گاڑیوں اور ٹرکوں پر ٹیرف بڑھا کر 25 فیصد کر دیں گے جس سے عالمی معیشت پر اثرات پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت پر 50 فیصد ٹرمپ ٹیرف آج سے نافذ، سب سے زیادہ کون سے شعبے متاثر ہوں گے اور فائدہ کس ملک کو ہوگا؟
امریکی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ یورپی یونین طے شدہ تجارتی معاہدے کی پاسداری نہیں کر رہی اسی وجہ سے آئندہ ہفتے سے درآمدی گاڑیوں پر ٹیرف میں اضافہ کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے اس الزام کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال طے پانے والے تجارتی معاہدے کے تحت یورپی گاڑیوں اور پرزہ جات پر امریکی ٹیرف 15 فیصد تک محدود کیا گیا تھا جو دیگر ممالک کے مقابلے میں کم تھا۔ اب اس شرح کو بڑھا کر 25 فیصد کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیے: ٹرمپ ٹیرف: یورپی یونین کو 9 جولائی تک مہلت مل گئی
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ نے جرمن چانسلر فریڈرک مرز پر بھی تنقید کی ہے اور انہیں یوکرین جنگ کے خاتمے پر توجہ دینے کا مشورہ دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے جرمنی کو خاص طور پر نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ یورپی یونین کی گاڑیوں کی برآمدات میں اس کا بڑا حصہ ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ ٹیرف کے اثرات، پاکستان میں آئی فون کی قیمتیں 10 لاکھ روپے سے اوپر جانے کا خدشہ
دوسری جانب امریکا اور یورپی یونین کے درمیان ٹرن بیری معاہدہ کے نام سے معروف تجارتی فریم ورک گزشتہ سال طے پایا تھا جس کا مقصد باہمی تجارت کو مستحکم بنانا تھا۔ تاہم رواں سال امریکی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد اس معاہدے کی قانونی حیثیت پر سوالات بھی اٹھے ہیں جس کے باعث ٹیرف کی شرح میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔














