شہریوں کی بے مثال سخاوت نے کراچی کی مفت پبلک لائبریری کو بند ہونے سے بچا لیا۔ لائبریری کی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ انہیں اپنی توقع سے 3 گنا زیادہ عطیات موصول ہوئے ہیں، جس کے بعد اب لائبریری کا مستقبل محفوظ ہوگیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسپتال فعال کرنے کے مخالف نہیں لیکن حکومت لائبریری کو متبادل بھی فراہم کرے، لائبریری انتظامیہ
کتاب گھر کی انتظامیہ نے کرایوں میں اضافے اور مالی مشکلات کے باعث لائبریری کی منتقلی کے لیے 5 لاکھ روپے کا فنڈ جمع کرنے کی اپیل کی تھی۔ تاہم، عوام کے غیر معمولی ردِعمل کے باعث فنڈز کا ہدف محض 53 منٹ میں پورا کرلیا گیا۔
تین دنوں کے اندر شہریوں اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے مل کر ہدف سے تین گنا زیادہ رقم جمع کر دی، جس میں 500 روپے سے لے کر 1350 ڈالر تک کے انفرادی عطیات شامل تھے۔
View this post on Instagram
ایک گمنام مخیر شخصیت کی مداخلت کے بعد لائبریری کے موجودہ مقام کو بھی فی الوقت بچا لیا گیا ہے۔ انتظامیہ اور مالکِ مکان کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں کتاب گھر اگلے 11 ماہ تک اسی جگہ اپنی خدمات جاری رکھ سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ہنری فورڈ کی سوانح حیات پر مبنی کتاب 64 سال بعد واپس واشنگٹن کی لائبریری پہنچ گئی
اس عرصے کے دوران لائبریری کو کسی زیادہ سستے اور پائیدار مقام پر منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کی جائے گی تاکہ مستقبل میں ایسی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔
انتظامیہ نے تمام معاونین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عوامی مہم ‘کتاب گھر’ کے وژن پر شہریوں کے اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔













