اسرائیلی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے بحری بیڑے ‘گلوبل صمود فلوٹیلا’ میں شامل 2 کارکنوں کو تفتیش کے لیے اسرائیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
وزارت کے مطابق ہسپانوی شہری سیف ابو کشک اور برازیلی نژاد تھیاگو آویلا کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کیا جائے گا کیونکہ ان کا تعلق ایک ایسی تنظیم سے ہے جس پر امریکی محکمہ خزانہ نے پابندیاں عائد کررکھی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سمیت 10 ممالک کی اسرائیل کے گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملے کی شدید مذمت
اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ دونوں کارکن ’پاپولر کانفرنس فار فلسطینی ابراڈ‘ منسلک ہیں، جس پر واشنگٹن نے حماس کے لیے خفیہ طور پر کام کرنے کا الزام لگایا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ابو کشک مذکورہ تنظیم کے اہم رکن ہیں جبکہ تھیاگو آویلا غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے شبہ میں زیرِ تفتیش ہیں۔ اسرائیل میں مقیم ان دونوں ممالک کے قونصلر نمائندے جلد ان سے ملاقات کریں گے۔
واضح رہے کہ اس امدادی بیڑے میں 50 سے زائد کشتیاں شامل تھیں جنہوں نے فرانس، اسپین اور اٹلی کی بندرگاہوں سے غزہ کا بحری محاصرہ توڑنے کے لیے سفر شروع کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیلی کارروائی، غزہ جانے والے ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کے 7 جہاز تحویل میں
فلوٹیلا کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی سے ایک ہزار کلومیٹر دور بین الاقوامی سمندر میں کارروائی کرتے ہوئے 211 کارکنوں کو حراست میں لیا اور ان کے ساز و سامان کو نقصان پہنچایا۔
اسرائیلی کارروائی کے نتیجے میں حراست میں لیے گئے درجنوں کارکن جمعہ کے روز یونانی جزیرے کریٹ پر اترے۔
پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد بھی حراست میں لیے گئے افراد میں شامل تھے، تاہم نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ان کی رہائی کی تصدیق کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کے ہاتھوں گرفتار ’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ کے اطالوی رکن نے اسلام قبول کرلیا
اسحاق ڈار نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والے کارکنوں کی غیر قانونی حراست اور غزہ کے محصور عوام کے لیے امداد کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
دوسری جانب امریکہ نے اسرائیلی مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے اس امدادی بیڑے کو ایک ’سیاسی شعبدہ بازی‘ قرار دیا ہے۔














