افغان طالبان کے بیانیے اور زمینی حقائق میں تضاد، پروپیگنڈا مہم بے نقاب ہوگئی

پیر 4 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کابل اور کنڑ کے علاقے دنگام سے متعلق افغان طالبان کے ڈپٹی ترجمان حمداللہ فطرت کے بیانات کے بعد ایک مرتبہ پھر طالبان کے بیانیے اور زمینی حقائق کے درمیان واضح تضاد سامنے آیا ہے۔

طالبان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ دنگام میں پاکستان کی جانب سے کارروائیوں کے دوران شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں، جبکہ گھروں، اسکولوں، مساجد اور ایک صحت مرکز کو نقصان پہنچا ہے۔

تاہم حقیقت یہ ہے کہ ایسے بیانات طالبان کے ایک مستقل پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہیں، جس میں بغیر تصدیق کے الزامات لگا کر رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق طالبان کی جانب سے مذہبی مقامات خصوصاً مساجد کو عبادت گاہوں کے بجائے آپریشنل مراکز، رابطہ نیٹ ورک اور پناہ گاہوں کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح رہائشی علاقوں، بازاروں اور تعلیمی اداروں میں اسلحہ، جنگجو اور لاجسٹک سہولیات چھپانے کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ طرزِ عمل شہری آبادی کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی ایک منظم حکمتِ عملی کی نشاندہی کرتا ہے، جس میں عام لوگوں کی حفاظت کو خطرے میں ڈال کر عسکری سرگرمیوں کو چھپایا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق طالبان کا ایک مستقل طرزِ عمل یہ ہے کہ وہ ایک جانب شہری علاقوں میں مبینہ طور پر عسکری سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں اور دوسری جانب کسی بھی نقصان کی صورت میں اس کو پروپیگنڈا کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ متعدد مواقع پر شہری مراکز اور عوامی ڈھانچوں کے قریب اسلحہ ڈپو اور جنگجوؤں کی موجودگی سامنے آتی رہی ہے، جو اس طرزِ عمل کی تسلسل کو ظاہر کرتی ہے۔

طالبان کی جانب سے سرحد پار بلا اشتعال شیلنگ کے نتیجے میں 52 پاکستانی شہری شہید اور 84 زخمی ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کی جانب سے ریاستی کارروائیاں صرف تصدیق شدہ دہشتگرد ٹھکانوں، نیٹ ورکس اور خطرناک ڈھانچوں کے خلاف کی جاتی ہیں۔

کارروائیوں میں احتیاط اور تناسب کو مدنظر رکھا جاتا ہے تاکہ شہری نقصان کو کم سے کم رکھا جا سکے۔ اس کے برعکس طالبان شہری آبادی کے اندر چھپ کر عسکری ڈھانچے محفوظ رکھتے ہیں اور بعد ازاں نقصان کو سیاسی اور بیانیاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال ایک بار پھر اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ زمینی حقائق اور طالبان کے بیانات میں واضح فرق موجود ہے، جہاں ایک طرف شہری تحفظ کا دعویٰ کیا جاتا ہے اور دوسری طرف انہی علاقوں میں عسکری سرگرمیوں کے الزامات سامنے آتے رہتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp