بنگلہ دیش میں ایک ہفتے کے دوران آسمانی بجلی گرنے سے ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 71 ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے ابتدائی وارننگ سسٹمز میں موجود خامیوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔
بنگلہ دیش کے محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر مومن الاسلام کے مطابق یہ ہلاکتیں 26 اپریل سے 2 مئی کے درمیان ہوئیں۔
انہوں نے یہ اعداد و شمار ڈھاکہ میں منعقدہ ایک ورکشاپ کے دوران پیش کیے، جس کا مقصد آسمانی بجلی کے خطرات کو کم کرنا اور تیاری کو بہتر بنانا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں سیلاب سے بورو فصل تباہ،کسان مشکلات کا شکار
کئی دن پہلے پیش گوئی جاری کیے جانے کے باوجود حکام نے تسلیم کیا کہ بروقت اور مربوط اقدامات اب بھی ایک بڑا چیلنج ہیں۔
مومن الاسلام کا کہنا تھا کہ ابتدائی وارننگ اسی وقت مؤثر ثابت ہوتی ہے جب اس کے ساتھ فوری ردعمل اور عوامی آگاہی بھی موجود ہو۔
ورکشاپ میں ماہرین نے بتایا کہ بنگلہ دیش میں اب ہر سال آسمانی بجلی سے ہونے والی اموات کی تعداد سمندری طوفانوں اور سیلاب سے زیادہ ہے۔
2015 سے 2024 کے درمیان آسمانی بجلی سے متعلق واقعات میں مجموعی طور پر 3,485 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں ٹرک اور وین میں تصادم، 8 مزدور جاں بحق
وزارتِ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اینڈ ریلیف کے نمائندوں نے کہا کہ گنجان آباد دیہی علاقے خاص طور پر زیادہ خطرے سے دوچار ہیں، جہاں کسان، خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
انہوں نے بہتر پیش گوئی نظام، وارننگز کی وسیع تر ترسیل، آسمانی بجلی سے بچاؤ کے آلات کی تنصیب اور محفوظ پناہ گاہوں کی تعمیر پر زور دیا۔
شرکا نے، جن میں بین الاقوامی اور ترقیاتی تنظیموں کے نمائندے بھی شامل تھے، تکنیکی حدود اور دور دراز علاقوں تک رسائی میں مشکلات کو جانی نقصان کم کرنے میں بڑی رکاوٹ قرار دیا۔
انہوں نے تیز تر اور مقامی سطح پر وارننگ سسٹم اور کمیونٹی کی سطح پر بہتر تیاری کی ضرورت پر زور دیا۔













