ہر کوئی نئی کار خریدنے کا خواہشمند ہوتا ہے لیکن پاکستان میں اکثر نئی گاڑی کی پوری رقم ادا کرنے کے باوجود صارفین کو مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ کیونکہ کار ساز کمپنیاں نئی گاڑی کی فراہمی میں غیر معمولی تاخیر کرتی ہیں اور بیشتر اوقات شوروم مالکان گاڑی جلد دینے کے لئے ایک خطیر رقم پریمئیم کے طور پر بھی وصول کرتے ہیں۔
ایسا ہی کچھ ایک صارف کے ساتھ ہوا جب انہوں نے ایک چینی کمپنی کی سیلون کار بک کروائی اور اس کی فراہمی میں کمپنی کی جانب سے مبینہ طور پر غیر معمولی تاخیر کی گئی، جس کے بعد انہوں نے اپنی کہانی سوشل میڈیا پر لکھ دی۔
یہ بھی پڑھیں: جرمن آٹو موبائل کمپنی ووکس ویگن کی گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں کمی، وجہ کیا ہے؟
متاثرہ صارف کے مطابق انہوں نے 28 فروری کو گاڑی کی مکمل رقم ادا کی تھی اور کمپنی کی جانب سے یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ گاڑی ایک ماہ کے اندر یعنی مارچ کے آخر تک ڈیلیور کر دی جائے گی۔ تاہم دو ماہ سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود گاڑی فراہم نہیں کی گئی۔
میں نے 28 فروری کو چانگان کمپنی کے شو روم سے السون کار کے لیے مکمل ادائیگی کی، کمپنی کے وعدے کے ساتھ کہ مارچ کے آخر تک ایک ماہ کے اندر ڈیلیوری مکمل کر لی جائے گی۔
مئی کی بھی 5 ہو گئی ، مجھے ابھی تک گاڑی موصول نہیں ہوئی ہے۔ بار بار ایک الگ بہانا سنا دیتے ہیں یہ لوگ جب میں نے گوگل… pic.twitter.com/97yY0r74g2— Samina khan (@Saminakhan4000) May 5, 2026
اس دوران انہیں مبینہ طور پر غیر واضح معلومات اور غیر اطمینان بخش رویے کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے ۔
صارف کے مطابق انہیں بار بار مختلف وجوہات اور تاخیر کے جواز دیے جاتے رہے جبکہ بعد میں انہیں ایک چیسس نمبر فراہم کیا گیا جو مبینہ طور پر درست ثابت نہیں ہوا۔ ان کے مطابق انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ گاڑی کراچی سے روانہ ہو چکی ہے اور ایک ہفتے میں پہنچ جائے گی مگر وہ وعدہ بھی پورا نہ ہو سکا۔
یہ بھی پڑھیں: کار کمپنیاں پاکستان میں گاڑیاں بنانے سے گریز کیوں کرتی ہیں؟
مزید یہ کہ بعد میں انہیں آگاہ کیا گیا کہ مذکورہ گاڑی کسی دوسرے کسٹمر کو الاٹ کر دی گئی ہے جس پر صارف نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ صارف کے مطابق جب انہوں نے آرڈر منسوخ کر کے اپنی رقم واپس لینے کا مطالبہ کیا تو انہیں بتایا گیا کہ مجموعی رقم میں سے 5 فیصد کٹوتی کی جائے گی اور واپسی کے عمل میں تقریباً دو ماہ کا وقت لگے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی نئی آٹو پالیسی، کیا عام پاکستانی کا گاڑی خریدنے کا خواب پورا ہو پائے گا؟
متاثرہ شخص نے اس صورتحال کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام سے نوٹس لینے اور گاڑیوں کی فروخت کے نظام میں شفافیت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ معاملہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث ہے جہاں صارفین کی بڑی تعداد نے کسٹمر سروس اور ڈیلیوری کے نظام پر سوالات اٹھائے ہیں۔
ایک صارف نے مشورہ دیا کہ کنزیومر کورٹ سے رجوع کریں اس سے ناصرف آپ کو گاڑی ملے گی بلکہ کمپنی کو ہرجانہ بھی ادا کرنا پڑے گا۔
کنزیومر کورٹ سے رجوع کریں فوراً ،ناصرف گاڑی ملے گی بلکہ ہرجانہ بھی ادا کرنا پڑے گا کمپنی کو ۰
— Naveed Ahad (@naveedahad5) May 5, 2026
ایک سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ زیادہ تر کمپنیاں گاہکوں کے ساتھ یہی کر رہی ہیں۔
زیادہ تر کمپنیاں یہی کر رہی ہیں گاہکوں کے ساتھ https://t.co/rnPtoNwjqP
— Mickey Gill 🇵🇰✝️ (@Micks_it) May 5, 2026














