بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ میں قائد حزب اختلاف اور جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کے سربراہ ڈاکٹر شفیق الرحمان نے دارالحکومت کے علاقے شاپلا چتر میں 5 مئی 2013 کو پیش آنے والے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد اور غیر جانبدار کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
منگل کے روز جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا کہ اس افسوسناک اور گھناؤنے واقعہ کے اصل حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں اور ذمہ داروں کو مثالی سزا دے کر قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں اپریل کے دوران ہجوم کے تشدد کے 49 واقعات، 21 افراد ہلاک، رپورٹ
https://Twitter.com/centristnattv/status/2051505532729729038
ڈاکٹر شفیق الرحمان نے اس واقعے کو بنگلہ دیش کی تاریخ کا ’سیاہ باب‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی کی گئی، جس نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
ان کے مطابق یہ اقدامات انسانی اصولوں، انصاف اور جمہوری اقدار کے منافی تھے۔
مزید پڑھیں: آسام کے وزیراعلیٰ کے بیانات پر بنگلہ دیش کا احتجاج، بھارتی سفارتکار طلب
ڈاکٹر شفیق الرحمان نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ ایک دہائی سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود شفاف اور غیر جانبدار عدالتی عمل سامنے نہیں آ سکا۔
ان کا کہنا تھا کہ انصاف کی عدم فراہمی نے متاثرہ خاندانوں کو محروم رکھا ہے اور عوام میں بے چینی اور مایوسی کو بڑھایا ہے۔
مزید پڑھیں: چینی کمپنیوں کو بنگلہ دیش میں تیل و گیس کی تلاش کا ٹھیکہ مل گیا
انہوں نے زور دیا کہ پرامن اجتماع اور اظہارِ رائے کی آزادی آئینی حقوق ہیں، اور طاقت کے استعمال سے قیمتی جانوں کا ضیاع کسی صورت قابل قبول نہیں۔
ان کے مطابق ایسے واقعات کی تکرار روکنے کے لیے احتساب ضروری ہے، انہوں نے عوام سے امن، انصاف اور انسانی وقار کے لیے متحد ہونے کی اپیل بھی کی۔














