سندھ کے ضلع شکارپور کے علاقے لکھّی غلام علی شاہ میں فائرنگ کے ایک واقعے میں غلام شاہ تھانے کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) علی حسن جتوئی شدید زخمی ہوگئے اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے۔
یہ بھی پڑھیں: شکارپور میں امن کی بحالی، 71 ڈاکوؤں کا سرینڈر، 209 ہتھیار پولیس کے حوالے
پولیس حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے ہی تھانے کے اہلکاروں کی فائرنگ سے زخمی ہوئے تھے تاہم مقامی رپورٹس کے مطابق معاملہ کچھ اور بھی ہوسکتا ہے جس کا پتا انکوائری کے بعد چلنے کا امکان ہے۔
پولیس کے مطابق لکھّی غلام علی شاہ تھانے کے اہلکار معمول کی چیکنگ کے دوران ایک نجی گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا تاہم مبینہ طور پر گاڑی نہ رکنے پر فائرنگ کی گئی۔ اس دوران ایس ایچ
پولیس کے مطابق مذکورہ واقعہ صبح تقریباً 5 بجے پیش آیا جب علی حسن اپنی نئی ذاتی گاڑی میں جا رہے تھے۔
واقعے کے بارے میں متضاد دعوے
مقامی رپورٹس میں واقعے سے متعلق مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔
مزید پڑھیے: تقریباً صدی قبل شکارپور کو اسپتال دینے والے اودھو داس تارا چند کی لازوال خدمات
بعض کے مطابق یہ ایک پولیس مقابلہ تھا جس میں ایک ملزم ہلاک جبکہ دیگر فرار ہوگئے جبکہ کچھ اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ ایس ایچ او ایک نجی گاڑی میں سفر کر رہے تھے جب پولیس نے لکھّی غلام شاہ 2 کے قریب فائرنگ کی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے اے ایس پی شکارپور کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جسے 24 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دریں اثنا آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی لاڑکانہ ناصر آفتاب سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی ہے کہ شفاف اور جامع تحقیقات کے لیے سینیئر افسران پر مشتمل کمیٹی قائم کی جائے اور ذمہ داران کا تعین کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
مزید پڑھیں : پی ایس 9 شکارپور ضمنی انتخاب: پیپلز پارٹی کے آغا شہباز خان درانی کامیاب
ایس ایچ او علی حسن جتوئی غلام شاہ تھانے میں تعینات تھے۔ واقعے کے بعد ایس ایس پی شکارپور محمد آصف نے اسپتال کا دورہ کیا اور ابتدائی کارروائیوں کی نگرانی کی۔














