ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی بدھ 6 مئی کو چین کا دورہ کریں گے جہاں وہ چینی قیادت کی دعوت پر اعلیٰ سطحی مذاکرات کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: چین کے ساتھ تعلقات بہتری کی جانب گامزن، لڑنا سود مند نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔
چینی وزارت خارجہ کے مطابق دورے کے دوران عراقچی اپنے چینی ہم منصب وانگ یی سے ملاقات کریں گے جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور عالمی امور پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔
ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی مہر نے بھی اس دورے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملاقات میں اہم سفارتی امور زیر بحث آئیں گے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آئندہ دورہ چین کی تیاریاں بھی جاری ہیں جہاں وہ 14 مئی سے چینی صدر شی جن پنگ سے دو روزہ سربراہی ملاقات کریں گے۔
مزید پڑھیے: ٹرمپ کا ’پراجیکٹ فریڈم ‘ کیا ہے؟ مزید تفصیلات سامنے آگئیں
ادھر ایران اور امریکا کے درمیان خطے کے تنازع کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ واشنگٹن ایران سے براہ راست اور غیر رسمی دونوں سطحوں پر رابطے میں ہے تاکہ آبنائے ہرمز میں صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔
Minister of Foreign Affairs of Iran Seyyed Abbas Araghchi will visit China upon invitation on May 6.
Member of the Political Bureau of the CPC Central Committee and Minister of Foreign Affairs Wang Yi will hold talks with him. pic.twitter.com/36gnYiIN7u
— CHINA MFA Spokesperson 中国外交部发言人 (@MFA_China) May 5, 2026
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی حالیہ بیان میں کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کے واقعات واضح کرتے ہیں کہ سیاسی بحران کا کوئی فوجی حل نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سفارتی عمل جاری رہنا چاہیے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت ہی واحد راستہ ہے۔
مزید پڑھیں: ایران نے فریڈم پراجیکٹ میں رکاوٹ ڈالی تو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے، صدر ٹرمپ کی تہران کو دھمکی
پاکستان بھی اس عمل میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اسلام آباد نے ماضی میں ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں میں سہولت فراہم کی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات کو فروغ دینے کی کوششیں جاری رکھی ہیں۔













