امریکا نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کے لیے ’پروجیکٹ فریڈم‘ کے نام سے ایک نیا منصوبہ شروع کر دیا ہے، تاہم ایران نے اس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔
امریکی ٹی وی چینل ’سکائی نیوز‘ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت یقینی بنانے کے لیے ’پروجیکٹ فریڈم‘ کے نام سے ایک نئے منصوبے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت امریکی فوجی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔
صدر ٹرمپ کے مطابق اس آپریشن کا آغاز گزشتہ روز صبح کیا گیا، جس کا مقصد خطے میں تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنا ہے۔
دوسری جانب ایران نے اس منصوبے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’پروجیکٹ ڈیڈلاک‘ قرار دیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری بحران کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیے ایران نے فریڈم پراجیکٹ میں رکاوٹ ڈالی تو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے، صدر ٹرمپ کی تہران کو دھمکی
ایرانی ردعمل کے باوجود امریکی فوج نے منصوبے پر عمل درآمد جاری رکھتے ہوئے اس کی مزید تفصیلات بھی جاری کی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس آپریشن میں 100 سے زائد زمینی اور بحری فضائی اثاثے شامل ہیں، جن میں ایف-16 لڑاکا طیارے بھی شامل ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ جدید جنگی پلیٹ فارمز دفاعی نوعیت کے اس آپریشن کے دوران امریکی افواج کے تحفظ کے ساتھ ساتھ تجارتی جہازوں کے دفاع میں بھی کردار ادا کر رہے ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں کیا گیا ہے، تاکہ عالمی تجارت کے اہم سمندری راستے کو محفوظ بنایا جا سکے۔













