امریکا کی جانب سے کوسٹا ریکا کے ایک معروف اخبار کے بورڈ ارکان کے ویزے منسوخ کیے جانے پر صحافتی آزادی کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے لا ناسیون کے بورڈ کے نصف سے زائد ارکان کے سیاحتی ویزے منسوخ کر دیے۔ یہ اخبار طویل عرصے سے کوسٹا ریکا کے صدر روڈریگو شاویز پر تنقید کرتا رہا ہے، جو ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار، شرائط نرم کردیں، امریکی اخبار کا دعویٰ
اخبار کے بورڈ کے صدر پیڈرو ابریو کے مطابق سات میں سے 5 ارکان کے ویزے منسوخ کیے گئے، جبکہ باقی دو ایسے ممالک کے پاسپورٹ رکھتے ہیں جنہیں امریکا میں داخلے کے لیے ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ انہوں نے اس اقدام کو ‘صحافتی آزادی پر بالواسطہ حملہ’ قرار دیا۔
یاد رہے کہ 2022 کے صدارتی انتخابات کے دوران لا ناسیون نے روڈریگو شاویز کے خلاف ہراسانی اور انتخابی فنڈنگ سے متعلق الزامات پر رپورٹس شائع کی تھیں، جن کی صدر نے تردید کی تھی۔ اقتدار میں آنے کے بعد شاویز نے اخبار کو ‘قابلِ نفرت میڈیا’ اور ‘سیاسی قاتل’ قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کا یہ اقدام کوسٹا ریکا میں آزادیٔ اظہار اور سیاسی مباحثے پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے میڈیا اور حکومت کے ناقدین پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ایران نے شرائط نہ مانیں تو حملے مزید شدت سے دوبارہ شروع ہو جائیں گے، صدر ٹرمپ کی تہران کو پھر دھمکی
مزید یہ کہ حالیہ مہینوں میں متعدد دیگر سیاسی شخصیات کے ویزے بھی منسوخ کیے گئے، جن میں سابق صدر آسکر آریاس بھی شامل ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان مستقبل میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
دوسری طرف اطلاعات ہیں کہ روڈریگو شاویز جلد عہدہ چھوڑ دیں گے اور ان کی حمایت یافتہ رہنما لورا فرنینڈیز صدارت سنبھالیں گی، جس کے بعد سیاسی صورتحال مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔














