مدارس کی رجسٹریشن میں رکاوٹوں اور صوبے بھر میں دینی اداروں کے خلاف کارروائیوں کے خلاف جمعیت علما اسلام (ف) بلوچستان کی جانب سے صوبے بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دی گئی جس کے باعث بدھ کو بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبے کے بیشتر اضلاع میں مرکزی کاروباری مراکز بند رہے۔
ہڑتال کے باعث کوئٹہ میں لیاقت بازار، قندھاری بازار، جناح روڈ سمیت تمام کاروباری مراکز بند رہے جبکہ ٹریفک بھی معمول سے کم رہی۔
کوئٹہ کے علاوہ پشین، قلعہ عبداللہ، چمن، قلعہ سیف اللہ، مستونگ اور قلات کے دیگر اضلاع میں بھی شٹر ڈاؤن ہڑتال کے سبب کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں۔
جمیعت علما اسلام (ف) بلوچستان کا مؤقف ہے کہ اگر مدارس کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ روکا نہ گیا تو مستقبل میں مزید سخت احتجاجی لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے جمعیت علما اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر مولانا واسع نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ مدارس کے خلاف ایسے قانون کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں جو نہ تو وفاقی اور نہ ہی صوبائی اسمبلی سے منظور شدہ ہے۔
انہوں نے کہاکہ اس معاملے سے متعلق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان دو مذاکراتی نشستوں کا سلسلہ ہو چکا ہے تاہم دونوں فریقوں کے درمیان ڈیڈ لاک تاحال برقرار ہے۔













