قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور مایہ ناز فاسٹ بولر وسیم اکرم نے سوشل میڈیا پر جاری کراچی اور لاہور کے کھانوں کے تقابل کی بحث میں مداخلت کرتے ہوئے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔
وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ وہ لاہور میں پیدا ہوئے اور وہاں زندگی کے 42 سال گزارے، جبکہ گزشتہ 14 برسوں سے کراچی میں مقیم ہیں، اس لیے وہ دونوں شہروں کے ذائقوں سے بخوبی واقف ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 25 سال سے شوگر کے باوجود فٹنس کیسے؟ وسیم اکرم نے بڑا راز بتا دیا
سابق کپتان نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ وہ حال ہی میں پی ایس ایل کے سلسلے میں لاہور گئے تھے جہاں انہوں نے اپنی پرانی پسندیدہ جگہوں کا رخ کیا اور مسجدِ شہدا کے چکن چھولے اور چاپیں منگوائیں،گلبرگ کے دیسی چکن چھولے، لیکن انہیں وہاں صرف مرچوں کا ذائقہ ہی ملا۔
انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ لاہوری کھانوں میں یہ بے تحاشہ مرچیں اور کریم کہاں سے آ گئی ہیں کیونکہ بچپن میں ایسا نہیں ہوتا تھا۔
– Let's settle this debate once & for all… #Karachi #Lahore @fawadchaudhry pic.twitter.com/G2buvW2n9X
— Wasim Akram (@wasimakramlive) May 7, 2026
وسیم اکرم نے واضح کیا کہ لاہور میں وارث کی نہاری اور حنیف کے پائے جیسی مخصوص جگہیں اپنی مثال آپ ہیں، لیکن مجموعی طور پر لاہور کے کھانوں میں ورائٹی (تنوع) کی کمی ہے۔
وسیم اکرم نے کراچی کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ یہاں مختلف کمیونٹیز جیسے پٹھان، بلوچی، پنجابی اور مہاجر سب مل جل کر رہتے ہیں، جس کی وجہ سے کراچی کے فوڈ میں بہت زیادہ ویری ایشنز اور ذائقے ملتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’جان ہے تو جہان ہے‘ وسیم اکرم کا میلبرن سے خصوصی پیغام
انہوں نے مزاحیہ انداز میں مداحوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ جانتے ہیں اس بیان کے بعد لاہوریے جوتیاں لے کر ان کے پیچھے پڑجائیں گے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ کھانے کی ورائٹی کے معاملے میں کراچی کا پلڑا بھاری ہے۔
وسیم اکرم کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے جہاں کراچی اور لاہور کے فوڈ لورز ایک بار پھر اپنے اپنے شہر کے دفاع میں سامنے آگئے ہیں۔













