22 اپریل 2025 کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں مبیّنہ طور پر دہشت گرد حملہ ہوا جس پر 23 اپریل کو بھارت کی کابینہ کمیٹی برائے سلامتی نے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے سمیت دیگر سخت اقدامات کا اعلان کیا۔
26 اپریل کو وزیراعظم شہباز شریف نے کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کو آزادانہ تحقیقات کی پیش کش کی جسے بھارت نے مسترد کر دیا۔
یہ بھی پڑھیے: معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر دنیا پاکستان کو ایک سنجیدہ و مضبوط ملک کے طور پر دیکھ رہی ہے، عطا تارڑ
6 مئی کی رات تقریباً 1 بجے کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں خصوصاً مظفرآباد، کوٹلی، بہاولپور اور مریدکے کے اطراف دھماکوں کی اطلاعات آنا شروع ہوئیں۔ کچھ ہی دیر بعد بھارتی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا کہ اس نے ‘آپریشن سندور’ کے تحت پاکستان اور آزاد کشمیر میں مبینہ ‘دہشت گرد ٹھکانوں’ کو نشانہ بنایا ہے۔ بھارت کے مطابق کارروائی رات گئے شروع ہوئی اور اس میں فضائیہ کے رافیل طیاروں اور دیگر جدید ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔
6 اور 7 مئی 2025 کی درمیانی شب پاکستانی فضائیہ نے فوری طور پر ایئر ڈیفنس اور فضائی ردعمل دینا شروع کیا۔ پاکستانی عسکری ذرائع کے مطابق بھارتی طیارے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوئے بغیر اسٹینڈ آف ہتھیار استعمال کر رہے تھے جبکہ پاکستان نے اپنے لڑاکا طیارے فضا میں بھیج دیے۔
اس دوران لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد کے قریب ایک بڑی فضائی جھڑپ ہوئی جسے بعد میں کئی بین الاقوامی دفاعی تجزیہ کاروں نے حالیہ دہائیوں کی بڑی فضائی لڑائیوں میں شمار کیا۔
یہ بھی پڑھیے: آپریشن بنیان مرصوص پر اہم کتاب نے بھارت کے دعوؤں کا پول کھول دیا
6 اور 7 مئی کی درمیانی شب پاکستانی میڈیا پر تقریباً رات 3 بجے سے 3:30 بجے کے درمیان یہ خبریں چلنا شروع ہوئیں کہ پاکستان نے بھارتی جنگی طیارے مار گرائے ہیں۔ ابتدائی طور پر تعداد واضح نہیں تھی، تاہم صبح فجر کے بعد سرکاری اور نیم سرکاری ذرائع نے دعویٰ کیا کہ متعدد بھارتی طیارے تباہ ہوئے ہیں جن میں کم از کم ایک یا زیادہ رافیل طیارے شامل ہیں۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے 7 مئی کی صبح پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان نے دشمن کے 5 طیارے مار گرائے ہیں جن میں رافیل، مگ 29 اور ایس یو 30 شامل تھے۔ پاکستانی میڈیا میں یہی وہ لمحہ تھا جب رافیل گرنے کی خبر بڑے پیمانے پر بریکنگ نیوز بنی۔
بھارت نے ابتدا میں طیاروں کے نقصان کی واضح تصدیق نہیں کی، تاہم بعد میں بین الاقوامی میڈیا میں ایسے شواہد اور انٹیلی جنس رپورٹس سامنے آئیں جن میں کم از کم کچھ بھارتی طیاروں کے نقصان کا ذکر کیا گیا۔ فرانسیسی اور امریکی ذرائع ابلاغ میں بھی یہ رپورٹ ہوا کہ ایک یا زیادہ رافیل طیاروں کے نقصان کے امکانات زیرِ غور ہیں، اگرچہ بھارتی حکومت نے باضابطہ طور پر رافیل طیارے گرنے کی مکمل تفصیل جاری نہیں کی۔
6 اور 7 مئی کی درمیانی شب ہوئے حملوں میں پاکستانی حکام کے مطابق شہری علاقے متاثر ہوئے اور خواتین و بچوں سمیت سویلین افراد شہید ہوئے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے دفاع کا مکمل حق رکھتا ہے۔
جبکہ اُسی روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا صورتحال کو قریب سے دیکھ رہا ہے اور دونوں ممالک سے تحمل کی اپیل کرتا ہے۔
8مئی ڈرون، فضائی جھڑپیں اور سفارتی رابطے
8 مئی کو لائن آف کنٹرول اور پاک بھارت بین الاقوامی سرحد پر شدید گولہ باری جاری رہی۔ بھارت نے پاکستان پر ڈرون حملوں کا الزام لگایا جبکہ پاکستان نے کہا کہ بھارتی ڈرونز کو مار گرایا گیا۔
پاکستان نے کہا کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا لیکن کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ بھارت کی جانب سے بھی فوجی تیاریوں میں اضافہ کیا گیا۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ابتدائی طور پر کہا کہ یہ معاملہ امریکا کا براہ راست مسئلہ نہیں لیکن بعد میں واشنگٹن نے سفارتی سرگرمیاں تیز کردیں۔
یہ بھی پڑھیے: معرکہ حق کا ایک سال مکمل، ’ہم ہیں بنیان مرصوص‘ ٹیزر جاری
چین، سعودی عرب، ترکیہ، قطر، برطانیہ اور جی 7 ممالک نے دونوں ممالک سے تحمل اور مذاکرات کی اپیل کی۔
9 مئی تصادم میں شدید اضافہ
9مئی کو صورتحال مزید سنگین ہوگئی۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے دعوے کئے۔ پاکستان نے فتح سیریز کے میزائلوں سمیت محدود جوابی کارروائیوں کا اشارہ دیا۔
اسی روز امریکی سفارتکاری انتہائی متحرک ہوگئی۔ مارکو روبیو نے وزیراعظم شہباز شریف اور بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے رابطہ کیا اور فوری ڈی ایسکلیشن پر زور دیا۔
امریکی ذرائع کے مطابق جے ڈی وینس نے نریندر مودی سے رابطہ کیا جبکہ مارکو روبیو نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے گفتگو کی۔ پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ اگر بھارت حملے روکے تو پاکستان کشیدگی کم کرنے پر آمادہ ہے۔
10مئی آپریشن بنیان المرصوص اور جنگ بندی
10مئی کی صبح بھارت نے پاکستان کے بعض فضائی اڈوں پر حملوں کی کوشش کی۔ پاکستان نے اس کے جواب میں آپریشن بنیان المرصوص شروع کرنے کا اعلان کیا۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق اس کارروائی میں بھارتی فوجی تنصیبات اور اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
پاکستانی فضائیہ اور فوج نے بھارت کے مزید اہداف کو نشانہ بنایا گیا جن میں بھارت کا فضاتی دفاعی نظام ایس 400 بھی شامل تھا جبکہ بھارت نے کہا کہ اس نے پاکستانی حملے ناکام بنائے۔ دونوں ممالک کے درمیان میزائل، ڈرون اور فضائی کارروائیاں جاری رہیں۔
یہ بھی پڑھیے: سوئس رپورٹ نے ’آپریشن سندور‘ میں بھارت کے کھوکھلے دعوے اور پاکستان کی کامیابی آشکار کردی
اسی دن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ امریکہ کی ثالثی میں پاکستان اور بھارت فوری جنگ بندی پر متفق ہوگئے ہیں۔
بعد ازاں بھارتی خارجہ سیکریٹری وکرم مسری اور پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی جنگ بندی کی تصدیق کی۔ اعلان کے مطابق شام 5 بجے بھارتی وقت سے زمینی، فضائی اور بحری کارروائیاں روکنے پر اتفاق ہوا۔
شہباز شریف نے ٹرمپ، سعودی عرب، ترکیہ، قطر، چین، برطانیہ اور اقوام متحدہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی میں ان کا اہم کردار رہا۔
بھارت نے بعد میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ جنگ بندی براہ راست فوجی رابطوں کے ذریعے طے ہوئی، کسی تیسرے فریق کی ثالثی نہیں تھی۔
جنگ بندی کے بعد
جنگ بندی کے چند گھنٹوں بعد بھارت نے پاکستان پر خلاف ورزی کا الزام لگایا جبکہ پاکستان نے اس الزام کو مسترد کردیا۔
پاکستان میں 10 مئی کو بعد ازاں ‘یومِ معرکۂ حق’ کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔














