امریکی ایوانِ نمائندگان میں ایران جنگ کے دوران امن و سفارتی کوششوں پر پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے قرارداد جمع کرا دی گئی، جس میں پاکستان کو ‘غیر جانبدار اور قابلِ اعتماد ثالث’ قرار دیا گیا ہے۔
امریکی کانگریس کے رکن آل گرین نے ایوان میں پاکستان کی جانب سے ‘امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان امن کے قیام کے لیے کردار’ کے حوالے سے قرارداد پیش کی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی سفارتی کوششیں پھر رنگ لانے لگیں، ڈونلڈ ٹرمپ نے اگلے ہفتے ایران امریکا امن معاہدے کا عندیہ دے دیا
قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ تباہ کن جنگ کے دوران پاکستان نے کلیدی سفارتی کردار ادا کیا اور جانی و مالی نقصان روکنے کیلئے بہترین سہولت کاری فراہم کی۔
قرارداد میں اس امر کا بھی اعتراف کیا گیا کہ پاکستان نے سفارتی وفود کی میزبانی کے لیے شہروں کی بندش جیسی مشکلات برداشت کیں تاکہ تعمیری مذاکرات کو ممکن بنایا جا سکے۔
A resolution has been introduced in the U.S. Congress praising Pakistan’s diplomatic role in mediating between the U.S. and Iran and helping reduce tensions. 🇵🇰🇺🇸🇮🇷 #BreakingNews pic.twitter.com/L5FWP8l3cr
— World OSINT (@WarFront_update) May 8, 2026
کانگریس رکن آل گرین نے اپنے بیان میں کہا کہ جانوں کے ضیاع اور شدید انسانی المیے سے بھرپور جنگ کے دوران ان قوتوں کو تسلیم کرنا ضروری ہے جو امن کے لیے کام کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایک غیر جانبدار شراکت دار کے طور پر یہ ثابت کیا کہ سفارت کاری ہی مسائل کے حل کا مؤثر راستہ ہے۔
قرارداد میں کہا گیا کہ ایران جنگ کے نتیجے میں ہزاروں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر کے مطابق تقریباً 32 لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کا کانگریس کو خط، ایران کے ساتھ مسلح کشیدگی کے خاتمے کا اعلان
متن کے مطابق جنگ میں امریکی فوج کے 13 اہلکار ہلاک اور 399 سے زائد زخمی ہوئے جبکہ اس تنازع کے مالی اخراجات تقریباً ایک ارب ڈالر یومیہ تک پہنچ چکے ہیں۔
قرارداد میں مزید کہا گیا کہ جنگ کے باعث عالمی سطح پر توانائی اور فیول سپلائی بھی متاثر ہوئی، اس لیے تنازع کا خاتمہ نہ صرف فریقین بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی برادری کے مفاد میں ہے۔
قرارداد کے مطابق پاکستان نے جنگ بندی اور پائیدار امن کے لیے تعمیری مذاکرات ممکن بنانے میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔














