امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ممکنہ امن معاہدہ آئندہ ہفتے طے پا سکتا ہے جبکہ پاکستان کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے تیز ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امن مذاکرات میں پیشرفت: ایران نے امریکا کے لیے نیا پروپوزل پاکستان کے حوالے کردیا
فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے اور معاہدے کے امکانات روشن ہیں تاہم اگر تہران نے معاہدہ قبول نہ کیا تو فوجی کارروائی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ وہ امریکا کی تازہ تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے اور اپنا جواب پاکستان کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچائے گا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکا اور ایران ایک محدود اور عارضی معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں جس کا مقصد جنگ بندی، آبنائے ہرمز میں استحکام اور مزید مذاکرات کے لیے راستہ ہموار کرنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مجوزہ فریم ورک تین مراحل پر مشتمل ہو سکتا ہے جن میں جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان، آبنائے ہرمز کے بحران کے حل کے اقدامات اور30 روزہ مذاکراتی دور (جس میں بڑے تنازعات حل کرنے کی کوشش کی جائے گی) شامل ہیں۔
مزید پڑھیے: امن مذاکرات: اسحاق ڈار اور دفتر خارجہ کی کوششیں قابلِ ستائش ہیں، ایرانی سفیر
امریکی میڈیا ادارے ایکسیوس کے مطابق زیر غور معاہدے میں ایران کی جانب سے کم از کم 12 برس تک یورینیم افزودگی روکنے اور جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی شامل ہو سکتی ہے جبکہ امریکا ایران پر عائد بعض پابندیاں نرم کرنے اور منجمد اثاثے بحال کرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔
سی این این نے رپورٹ کیا کہ ایران اپنا باضابطہ ردعمل جمعرات کو پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکا کو بھیج سکتا ہے۔
پاکستان کا اہم کردار
پاکستان حالیہ سفارتی کوششوں میں اہم ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ اسلام آباد کو امید ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جلد معاہدہ طے پا جائے گا۔
مزید پڑھیں: کیا اسلام آباد ایک بار پھر ایران اور امریکا کے درمیان امن مذاکرات کا مرکز بن سکتا ہے؟
انہوں نے کہا کہ اگر معاہدہ پاکستان میں طے پاتا ہے تو یہ ملک کے لیے اعزاز ہوگا۔ ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے گزشتہ دنوں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت مختلف علاقائی رہنماؤں سے مسلسل رابطے رکھے۔
دفتر خارجہ کے مطابق ایران نے پاکستان کے “تعمیری اور ثالثی کردار” کو سراہا ہے، جبکہ پاکستان نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری ہی واحد راستہ ہیں۔
جنگ کیسے شروع ہوئی؟
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر حملوں کے بعد خطے میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی تھی جس کے جواب میں ایران نے مختلف مقامات پر کارروائیاں کیں اور آبنائے ہرمز میں عالمی شپنگ شدید متاثر ہوئی۔
تاہم اپریل میں پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان براہِ راست مذاکرات ہوئے جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
عالمی منڈیوں کا ردعمل
امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبروں کے بعد عالمی منڈیوں میں مثبت ردعمل دیکھنے میں آیا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 1.8 فیصد کمی کے بعد 99.43 ڈالر فی بیرل تک آ گئی جبکہ امریکی خام تیل بھی سستا ہوا۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا اور ایران کے اسلام آباد میں امن مذاکرات عالم اسلام کے لیے فخر کا باعث ہے، وزیراعظم شہباز شریف
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو خطے میں کشیدگی کم ہونے کے ساتھ عالمی توانائی منڈیوں میں بھی استحکام آ سکتا ہے۔














