ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کیس: اسلام آباد ہائیکورٹ کا سی ڈی اے کو نوٹس، جواب طلب کرلیا

منگل 12 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے اپارٹمنٹ مالکان کی جانب سے دائر انٹرا کورٹ اپیل پر سی ڈی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کی۔

مزید پڑھیں: ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے بعد تاج ریزیڈنشیا اسکینڈل: متاثرین کا سابق وزیراعظم آزاد کشمیر تنویر الیاس کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

اپیل کنندگان کے وکیل تیمور اسلم ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ لیز منسوخی کو درست قرار دینے کے فیصلے پر انہیں اعتراض نہیں، تاہم تھرڈ پارٹی رائٹس سے متعلق عدالت کی آبزرویشن کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کی گئی ہے۔

وکیل نے مؤقف اپنایا کہ عدالت نے توقع ظاہر کی تھی کہ سی ڈی اے اور تھرڈ پارٹی کسی قابل قبول حل تک پہنچ جائیں گے، لیکن سی ڈی اے ایسا کوئی حل نہیں چاہتا۔

انہوں نے کہاکہ ابھی عدالتی فیصلے کی مصدقہ کاپی بھی موصول نہیں ہوئی تھی کہ سی ڈی اے حکام عمارت میں داخل ہو گئے اور تالے توڑ دیے۔

رہائشیوں کی کمیٹی روزمرہ امور چلا رہی ہے، وکیل

سماعت کے دوران لیز منسوخی کے بعد سی ڈی اے کی جانب سے جاری پریس ریلیز بھی عدالت میں پیش کی گئی۔

تیمور اسلم ایڈووکیٹ نے کہاکہ سی ڈی اے نے روزمرہ امور چلانے کے لیے رہائشیوں پر مشتمل کمیٹی بنانے کی ہدایت کی تھی، جبکہ 2023 سے ایسی ہی کمیٹی سی ڈی اے کے تعاون سے معاملات چلا رہی ہے۔

وکیل کے مطابق منصوبے کے 2 ٹاورز مکمل ہو چکے ہیں جن میں 240 اپارٹمنٹس موجود ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جب عمارت تعمیر ہو رہی تھی تو اس وقت سی ڈی اے کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔

اوورسیز پاکستانیوں کی سرمایہ کاری کا معاملہ

وکیل اپیل کنندہ نے مؤقف اختیار کیاکہ اس منصوبے میں اوورسیز پاکستانیوں نے اپنی جمع پونجی سے سرمایہ کاری کی جبکہ اپارٹمنٹ مالکان کا بی این پی سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ عمارت میں سفارتکار اور ان کی فیملیز بھی رہائش پذیر ہیں۔

اس موقع پر جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے 2019 کے حکم کی واضح خلاف ورزی ہوئی، جس کے نتائج بھی سامنے آئیں گے۔

کمیٹی کی سفارشات تک کارروائی روکنے کی استدعا

وکیل نے کہا کہ عدالت نے سی ڈی اے کو ہدایت کی تھی کہ تھرڈ پارٹی حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے پلان آف ایکشن پیش کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہاکہ معاملہ نیب اور ایف آئی اے کا کیس بھی بن سکتا ہے، اسی لیے سی ڈی اے اس معاملے کو ہاتھ نہیں لگائے گا۔

وکیل کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور اس کی سفارشات آنے کے بعد کابینہ سے منظوری لی جائے گی۔

مزید پڑھیں: ون کانسٹیٹیوشن ایونیو معاملہ: وزیراعظم کی طرف سے قائم کی گئی کمیٹی کا پہلا اجلاس، سی ڈی اے کی بریفنگ

انہوں نے استدعا کی کہ کمیٹی کی سفارشات آنے تک تادیبی کارروائی سے روکا جائے۔

بعد ازاں عدالت نے انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت ملتوی کرتے ہوئے قرار دیا کہ اسٹے آرڈر کی درخواست پر فیصلہ بعد میں جاری کیا جائےگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp