وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے امریکی محکمہ خارجہ کے جنوبی و وسطی ایشیائی امور کے اسسٹنٹ سیکریٹری سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور امریکا کے درمیان اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری اور تجارتی تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں امریکی ناظم الامور بھی شریک تھیں۔
فریقین نے پاکستان میں کاروباری ماحول کو بہتر بنانے، سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے اور معاشی استحکام سے متعلق حکومتی اصلاحاتی اقدامات پر گفتگو کی۔ وزیر خزانہ نے امریکی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت شفاف، قابلِ اعتماد اور سرمایہ کار دوست ماحول کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور امریکا کے درمیان توانائی، منی لانڈرنگ اور سرمایہ کاری تعاون پر تبادلہ خیال
انہوں نے حکومت کی معاشی استحکام کی پالیسی، مالیاتی اصلاحات، ٹیکس نیٹ میں توسیع، ڈیجیٹلائزیشن اور مالی شمولیت بڑھانے کے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔
محمد اورنگزیب نے ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری اور عالمی مالیاتی منڈیوں تک دوبارہ رسائی جیسے اہم معاشی اشاریوں میں بہتری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل فنانس کے شعبوں میں طویل المدتی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔
امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری ایس پال کپور نے پاکستان کی جاری معاشی اصلاحات کو سراہتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مسابقتی اور مستحکم کاروباری ماحول انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی کمپنیاں پاکستان میں طویل المدتی سرمایہ کاری کے مواقع میں دلچسپی رکھتی ہیں۔
امریکی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر نے بھی پاکستانی حکومت کی جانب سے امریکی کمپنیوں کے ساتھ مسلسل رابطوں اور کاروباری ماحول بہتر بنانے کی کوششوں کو سراہا۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور امریکا کا روزویلٹ ہوٹل سے متعلق اہم معاہدہ
ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون کو مزید وسعت دینے، نجی شعبے کے روابط بڑھانے اور امریکی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان میں سازگار ماحول کی اہمیت پر بھی اتفاق کیا گیا۔














