نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی اب روایتی تعاون سے آگے بڑھ کر ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے نئے دور میں داخل ہو رہی ہے، جبکہ پاکستان خطے میں ڈیجیٹل سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کا اہم مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی وقت، فاصلے اور حالات سے بالاتر ایک مضبوط تعلق ہے، جس نے کئی دہائیوں سے دونوں ممالک کو ترقی، رابطہ سازی، تجارت، توانائی اور عوامی روابط کے شعبوں میں ایک دوسرے کے قریب رکھا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ڈیجیٹل معیشت پاکستان کی ترقی کا نیا انجن بن سکتی ہے، شزا فاطمہ
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آئی پی آئی ڈیجیٹل اکانومی ہیڈکوارٹرز کا آغاز دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اور اہم سنگ میل ہے، جو ڈیجیٹل رابطہ کاری، جدت اور مستقبل کی معیشت کی جانب مشترکہ پیش رفت کی علامت ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ مشکل اوقات میں چین ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا، جبکہ سی پیک منصوبوں نے پاکستان کے توانائی اور رابطہ نظام میں نمایاں بہتری پیدا کی۔ ان کے مطابق پاکستان اور چین کا تعلق صرف تعاون نہیں بلکہ حقیقی برادرانہ رشتہ ہے۔
Pakistan’s digital economy is growing at a rapid pace, and the country is well positioned to emerge as a key hub for digital investment, said Deputy Prime Minister Ishaq Dar while addressing the launch ceremony of the Pakistan Digital Economy Centre.@MIshaqDar50 #Pakistan… pic.twitter.com/87w6kAphgR
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) May 13, 2026
انہوں نے کہا کہ اب دونوں ممالک سڑکوں اور انفراسٹرکچر سے آگے بڑھ کر ڈیجیٹل نیٹ ورکس اور جدید ٹیکنالوجی کی طرف جا رہے ہیں، جبکہ فائبر آپٹک رابطہ، مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں تعاون بھی تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اور سی پیک کے تحت اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان میں آ چکی ہے، جبکہ اب تعاون کا دائرہ ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، زراعت، ماحولیاتی تبدیلی، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، تعلیم، آئی سی ٹی اور اسمارٹ سٹی منصوبوں تک وسیع ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان ڈیجیٹل کوریڈور نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنائے گا بلکہ گلوبل ساؤتھ کے دیگر ممالک کے لیے بھی نئے مواقع پیدا کرے گا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اب اپنے موقع کا انتظار کرنے والا ملک نہیں بلکہ ایک ابھرتی ہوئی معاشی حقیقت ہے۔ ان کے مطابق پاکستان 24 کروڑ آبادی، نوجوان افرادی قوت، دنیا بھر میں موجود پاکستانی کمیونٹی اور تیزی سے ترقی کرتی ڈیجیٹل معیشت کے باعث سرمایہ کاری کے لیے پرکشش ملک بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ اور موبائل کنیکٹیویٹی میں اضافے، نوجوان ٹیلنٹ اور جدید ڈیجیٹل نظام کی بدولت پاکستان خطے میں ڈیجیٹل سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی شراکت داری اور جدت کا اہم مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
وزیراعظم کی قیادت میں آئی ٹی اور ڈیجیٹل معیشت قومی ترجیحات میں شامل
اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں آئی ٹی اور ڈیجیٹل معیشت کو حکومت کی اعلیٰ ترین قومی ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ پاکستان تیزی سے ڈیجیٹل تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے وزارتِ آئی ٹی اور ٹیلی کام کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں مسلسل اضافہ پاکستان کی عالمی ڈیجیٹل معیشت میں مضبوط ہوتی ہوئی پوزیشن اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں بڑھتی ہوئی مسابقت کا ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بیجنگ یونائیٹڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی پی آئی) کا خیرمقدم کرتا ہے، جو ٹیکنالوجی پر مبنی، مارکیٹ سے جڑی اور ترقیاتی شراکت داری کی مثال ہے۔ ان کے مطابق چین میں لاکھوں کاروباری اداروں اور سو سے زائد صنعتی شعبوں کو خدمات فراہم کرنے والا پلیٹ فارم اب پاکستان میں کام شروع کر رہا ہے، جو ملکی معیشت پر اعتماد کا اظہار ہے۔
اسحاق ڈار نے آئی پی آئی کے چیئرمین، سی ای او اور ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گزشتہ برس ستمبر میں جو وعدے کیے تھے، آج ان پر عملدرآمد ہوتا دکھائی دے رہا ہے، اور یہی کامیاب کاروباری انداز ہے۔
انہوں نے چینی سفیر کی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ انہوں نے پاک چین تعاون کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اسحاق ڈار کے مطابق چین کے دوروں کے دوران ہونے والے معاہدوں میں سے تقریباً 30 فیصد، یعنی 10 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے مفاہمتی یادداشتوں کو عملی منصوبوں میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ڈیجیٹل معیشت کا فروغ: حکومت پنجاب کی 50 ہزار ماہانہ وظیفے کے ساتھ انٹرن شپ اسکیم کی رجسٹریشن شروع
نائب وزیراعظم نے کہا کہ یہ شراکت داری پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے نئی منڈیاں اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی فراہم کرے گی۔ ان کے مطابق یہ محض علامتی اعلان نہیں بلکہ ڈیجیٹل تجارت، مینوفیکچرنگ، زراعت اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں عملی تعاون کا آغاز ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان کاروباری افراد کے لیے یہ واضح پیغام ہے کہ عالمی معیار کی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں کیونکہ انہیں یہاں مواقع نظر آ رہے ہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ چینی کاروباری انداز نسبتاً محتاط سمجھا جاتا ہے، اس لیے یہ حوصلہ افزا بات ہے کہ آئی پی آئی کے چیئرمین پاکستان کو مستقبل کی ترقی اور عالمی توسیع کے لیے اہم مرکز قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری اور توسیع سے متعلق چینی کمپنیوں کا اعتماد ملک کے لیے مثبت اشارہ ہے۔
پاکستان سرمایہ کار دوست ماحول، ڈیجیٹل معیشت اور سی پیک کے دوسرے مرحلے میں داخل
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان سرمایہ کار دوست ماحول کی تشکیل کے لیے پرعزم ہے اور معیشت کی جدیدیت، ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی اور آسان کاروباری ماحول حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ وہ اسلام آباد میں پاکستان ڈیجیٹل اکنامک سینٹر کے اجرا کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC)، جو بورڈ آف انویسٹمنٹ کا حصہ ہے، ایک ون اسٹاپ پلیٹ فارم کے طور پر کام کر رہی ہے جو ہر سرمایہ کار کو سہولت فراہم کرتا ہے جو پاکستان میں سرمایہ کاری کا خواہاں ہو۔ ان کے مطابق یہ پلیٹ فارم بالخصوص آئی ٹی، ڈیجیٹل اکانومی، توانائی، زراعت، معدنیات اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں اسٹریٹجک سرمایہ کاری کو فروغ دے رہا ہے۔

اسحاق ڈار نے چینی کمپنیوں کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس پلیٹ فارم سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور ابھرتے ہوئے اور ہائی ٹیک شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت سی پیک کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جو ترقی اور معاشی تعاون کے نئے مواقع فراہم کر رہا ہے۔
اپنی گفتگو کے دوران انہوں نے 2013 کے سیاسی دور اور اس وقت کے معاشی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پاکستان کو شدید توانائی بحران کا سامنا تھا، شہروں میں 18 گھنٹے جبکہ دیہات میں اس سے بھی زیادہ لوڈشیڈنگ ہوتی تھی۔ ان کے مطابق حکومت نے اس بحران پر قابو پانے، معیشت کی بحالی اور امن و امان کی بہتری کے لیے جامع اقدامات کیے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اُس دور میں معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری آئی، شرح نمو میں اضافہ ہوا، مہنگائی کم ہوئی اور پالیسی ریٹ میں کمی کے ذریعے کاروباری ماحول بہتر بنایا گیا۔ ان کے مطابق پاکستان کی معیشت عالمی درجہ بندی میں بھی بہتر پوزیشن پر پہنچی، تاہم بعد کے برسوں میں یہ پیش رفت متاثر ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی فری لانس انڈسٹری ڈیجیٹل معیشت کا ابھرتا ہوا عالمی مرکز کیسے بن رہی ہے؟
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں اب دوبارہ معاشی استحکام کی جانب سفر جاری ہے اور موجودہ حکومت، وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں، ملک کو ایک بار پھر ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اب صرف چار درجے کی دوری پر ہے کہ وہ عالمی سطح پر جی 20 معیشتوں کی صف میں شامل ہو سکے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ حکومتی پالیسیوں، نجی شعبے کے تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ سے پاکستان جلد دوبارہ اس مقام پر پہنچے گا جہاں سے وہ عالمی اقتصادی ترقی کی طرف بڑھ رہا تھا۔
اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان کا مستقبل ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی پارٹنرشپس اور سرمایہ کاری میں مضمر ہے، اور حکومت اسی سمت میں عملی اقدامات کر رہی ہے تاکہ ملک کو ایک مضبوط اور جدید معیشت بنایا جا سکے۔












