ڈیجیٹل معیشت پاکستان کی ترقی کا نیا انجن بن سکتی ہے، شزا فاطمہ

بدھ 13 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت میں ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے اربوں ڈالر کا اضافہ ممکن ہے، جبکہ ٹیکنالوجی اور ڈیٹا پر مبنی فیصلے مستقبل کی مؤثر پالیسی سازی کے لیے ناگزیر ہیں۔

اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ حکومت خصوصی ٹیکنالوجی زونز میں اکنامی ہیڈکوارٹرز قائم کرنے کی جانب بڑھ رہی ہے، جبکہ حکومت، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) اور مختلف اداروں کے باہمی تعاون نے ایسے منصوبوں پر عملدرآمد ممکن بنایا ہے جو ماضی میں ممکن نہیں ہو سکے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:ٹیکنالوجیز کو عدم مساوات بڑھانے کے بجائے مواقع کی برابری کا ذریعہ بنایا جانا چاہیے، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت 400 ارب ڈالر سے زائد حجم کی معیشت رکھتا ہے، تاہم اس کا بڑا حصہ ابھی تک مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام سے منسلک نہیں۔ ان کے مطابق صنعتوں کی ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے 2030 تک معیشت میں 20 سے 30 ارب ڈالر تک کا اضافہ ممکن ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف معیشت کو فروغ ملے گا بلکہ روزگار کے نئے مواقع، کاروباری استعداد اور مجموعی کارکردگی میں بھی بہتری آئے گی۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت تقریباً 20 کروڑ موبائل صارفین اور 15 کروڑ 70 لاکھ سے زائد موبائل انٹرنیٹ صارفین موجود ہیں، جس کے باعث ڈیجیٹل تجارت تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔

شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ تجارت اور کاروبار کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے منسلک کرنا ملکی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کرے گا، جبکہ حکومت اور نجی شعبے میں فیصلے اب ڈیٹا کی بنیاد پر کرنے ہوں گے تاکہ مؤثر اور معلومات پر مبنی پالیسی سازی ممکن ہو سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں ٹیکنالوجی، رابطہ کاری اور ڈیٹا ہی ترقی اور اقتصادی استحکام کی اصل ضرورت ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp