خیبر میں سیکیورٹی فورسز نے ایک انٹیلی جنس بیسڈ کاؤنٹر ٹیررازم آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے اہم کمانڈر عمر عرف غازی کو ہلاک کر دیا۔ یہ کارروائی دہشت گردی کے خاتمے اور علاقے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے سیکیورٹی اداروں کی مسلسل کوششوں کا حصہ قرار دی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:محسن داوڑ کا ’فتنہ الخوارج‘ بیانیہ مسترد، قومی سلامتی کے معاملات پر ریاستی اداروں کی کوششوں کو تسلیم کرنا ضروری قرار
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ آپریشن خیبر میں کیا گیا، جس میں مطلوب دہشت گرد عمر عرف غازی کو نشانہ بنایا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز مسلسل خوارج کے تمام ٹھکانوں کی نشاندہی اور ان کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں تاکہ ان کے منصوبوں کو بروقت ناکام بنایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق خوارج کو اپنے محفوظ ٹھکانوں سے پسپائی اختیار کرنا پڑ رہی ہے، جہاں انہیں مبینہ طور پر افغان طالبان کی سرپرستی حاصل ہے۔ تاہم سیکیورٹی ادارے سرحدی علاقوں اور اندرونی نیٹ ورکس میں ان کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے متحرک ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سیکیورٹی فوسز نے فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کی پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش ناکام بنادی، طالبان چوکیاں تباہ
حکام کا کہنا ہے کہ دہشتگرد عناصر، جو عام شہریوں کے لیے مشکلات پیدا کرتے رہے ہیں، ان کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ حالیہ کارروائیوں میں خوارج کی قیادت کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو ایک وسیع تر اور سخت سیکیورٹی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
سیکیورٹی فورسز نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ شہریوں کے تحفظ اور خطے میں پائیدار امن کے قیام تک انسدادِ دہشتگردی آپریشنز جاری رہیں گے۔












